اگست ۱۹۴۷ء “برٹش اِنڈیا” کی تاریخ کا فیصلہ کُن مہینہ تھا۔ بٹوارے کا فیصلہ چُونکہ “۳ جون منصوبے” کے تحت ہوچکا تھا، اِس لیے جون، جولائی اور اگست کے پہلے تیرہ دنوں تک صرف اِس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے غیرمعمولی تگ و دَو ہی جاری رہی؛ اب کسی بڑی سیاسی انہونی کا دُور دُور تک کوئی اِمکان نہیں تھا۔
کانگریس کے بعض سرکردہ رہنما البتہ اگست ۱۹۴۷ء کے پہلے ہفتے تک بھی کسی انہونی کیلئے پُراُمید تھے۔ تاہم اس ماہ کی ۱۳ تاریخ تک کی پیش رفت دیکھنے کے بعد اُن پر بھی اب یہ حقیقت پوری طرح واضح ہونے لگی تھی کہ اُن کا “اَکھنڈ بھارت” کا خواب ہمیشہ کے لیے چکنا چُور ہونے جارہا ہے۔
تاجِ برطانیہ نے ہندوستان کو ایک متحدہ مرکزی حکومت کے سپرد کرنے کے بجائے اُسے دو ریاستوں میں تقسیم کرکے یہاں سے نکل جانے کا جو اَٹل فیصلہ کیا تھا، اب اُس پر عمل درآمد اور اِنتقالِ اِقتدار کا آخری مرحلہ شروع ہوچکا تھا۔
دہلی میں موجود مرکزی اَفسر شاہی کے اَرکان بھی “پاکستان” اور “بھارت” میں سے کسی ایک ریاست کو اپنی آئندہ خدمات کا مرکز بنانے کا چُناؤ کرچکے تھے۔ تقسیم کا اِنتظامی مرکز بدستور اب تک دہلی ہی تھا۔ وائسرائے، مرکزی حکومت، پارٹیشن کونسل، مرکزی سرکاری محکمے اور آل اِنڈیا ریڈیو کی سینٹرل نیوز آرگنائزیشن وہیں موجود تھے۔ سرکاری ملازمین، فوج، ریلوے، ڈاک و تار، مالی اَثاثوں اور نشریاتی وسائل کی تقسیم بھی دہلی ہی میں طے پانے والے فیصلوں کے تحت ہورہی تھی۔
مگر پاکستان کی سیاسی قیادت اب دہلی میں موجود نہیں تھی۔ محمد علی جناح اپنے قریبی ساتھیوں اور محترمہ فاطمہ جناح کے ہمراہ ۷ اگست ۱۹۴۷ء کو کراچی منتقل ہوچکے تھے۔ اُنہیں دہلی سے کراچی تک وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے فراہم کردہ خصوصی طیارے میں پہنچایا گیا تھا۔ طیارہ ماڑی پور کے ہوائی اَڈّے (جو اب مسرور ائیر بیس کہلاتا ہے) پر اُترا تو نئی مملکت کے بانی کے اِستقبال کے لیے لوگوں کا ایک بڑا ہُجوم موجود تھا۔ ہزاروں اَفراد نے ماڑی پور سے گورنمنٹ ہاؤس تک مختلف سڑکوں کے دونوں کناروں پر کھڑے ہوکر اُن کا پُرتپاک اِستقبال کیا تھا۔
جناح دہلی میں اپنی طویل سیاسی جدوجہد میں سُرخ رُو ہونے کے بعد اپنے آبائی شہر پہنچے تھے، جو چند دنوں بعد نئی مملکت “پاکستان” کا پہلا دارالحکومت بننے جارہا تھا۔
کراچی کا بطور دارالحکومت اِنتخاب اِتفاقی نہیں تھا۔ یہ سندھ کا دارالحکومت ہونے کے ساتھ ایک بین الاقوامی بندرگاہ، بحری اور فضائی راستوں سے منسلک شہر اور مغربی و مشرقی پاکستان کے درمیان نسبتاً قابلِ عمل حکومتی رابطہ گاہ بھی تھا۔ اِسی لیے ۱۴ اگست سے پہلے ہی نئی مملکت کے مرکزی دفاتر، دستور ساز اسمبلی کے لیے موزوں عمارت اور گورنر جنرل کی رہائش یہیں قائم یا تلاش کی جارہی تھیں۔
محمد علی جناح کے کراچی پہنچنے کے تین دن بعد، ۱۰ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اگلے روز، ۱۱ اگست کو، وہ اسمبلی کے پہلے صدر منتخب ہوئے اور اِسی روز اُنہوں نے اپنا تاریخی صدارتی خطاب کیا۔ ۱۲ اگست کو اسمبلی نے اُنہیں سرکاری طور پر “قائداعظم محمد علی جناح” کہہ کر مخاطب کرنے کی قرارداد بھی منظور کرلی۔
اِس پیش رفت کے صرف ایک دن بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن بھی ۱۳ اگست کی دوپہر دہلی سے روانہ ہوکر کراچی پہنچ گئے۔ محمد علی جناح نے اُس شب اُن کے اِعزاز میں گورنمنٹ ہاؤس میں ایک پُرتکلّف سرکاری عشائیے کا اِہتمام کررکھا تھا۔ اگلی صبح ماؤنٹ بیٹن کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے خطاب کرکے اِنتقالِ اِقتدار کا رسمی مرحلہ مکمل کرنا تھا۔
کراچی نئی مملکت کا سیاسی اور دستوری مرکز بن چکا تھا، لیکن یہاں ایک بنیادی چیز موجود نہیں تھی: کراچی میں آل اِنڈیا ریڈیو کا کوئی باقاعدہ ریڈیو اسٹیشن قائم نہیں تھا۔ برطانوی ہندوستان کی تقسیم کے نتیجے میں آل اِنڈیا ریڈیو کے نو باقاعدہ اسٹیشنوں میں سے صرف تین پاکستان کے حصّے میں آرہے تھے: لاہور، پشاور اور ڈھاکہ۔ دہلی، بمبئی، کلکتہ، مدراس، لکھنؤ اور تریچناپلی کے مراکز بھارت کا حصّہ بننے والے تھے۔
@
یوں نئی ریاست کی پیدائش کا اعلان کرنے کے لیے درکار مائیکروفون، اسٹوڈیو، تربیت یافتہ صداکار، انجینئر اور فعّال ٹرانسمیٹر کراچی کی بجائے لاہور، پشاور اور ڈھاکہ میں موجود تھے۔ یہ تینوں اسٹیشن اپنے اپنے خطّے میں اہم تھے، لیکن اُن کی جغرافیائی، فنی اور لسانی حیثیت یکساں نہیں تھی۔
:پشاور ریڈیو اسٹیشن
پشاور میں ریڈیو کی بنیاد ۱۹۳۵ء میں رکھی گئی تھی۔ اِس کا آغاز صوبائی حکومت کے زیرِ اِنتظام ایک معمولی سے مرکز کے طور پر ہوا، جس کے لیے مارکونی کمپنی نے چوتھائی کلوواٹ، یعنی ۲۵۰ واٹ، کا ٹرانسمیٹر اور چند ریڈیو سیٹ آزمائشی طور پر فراہم کیے تھے۔
اسٹیشن نے سول سیکرٹریٹ کے ایک کمرے سے کام شروع کیا۔ ریڈیو سیٹ پشاور کے گردونواح کے بعض دیہات، اسکولوں اور سرکاری مقامات پر رکھے گئے، تاکہ لوگ اجتماعی طور پر نشریات سُن سکیں۔
یکم اپریل ۱۹۳۷ء کو حکومتِ ہند نے یہ مرکز صوبائی حکومت سے لے کر آل اِنڈیا ریڈیو میں شامل کرلیا۔ یکم مارچ ۱۹۳۹ء سے اسے دہلی کی مختصر موجی نشریات وصول کرکے اپنے مقامی ٹرانسمیٹر سے ریلے کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جانے لگا۔
لائنل فیلڈن کی سرکاری رپورٹ میں بھی اِبتدائی پشاور مرکز کے ٹرانسمیٹر کی طاقت ۲۵۰ واٹ درج ہے۔تاہم ۱۶ جولائی ۱۹۴۲ء کو پشاور مرکز کو باقاعدہ براڈکاسٹنگ عمارت اور ۱۰ کلوواٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر فراہم کردیا گیا ؛ یوں قیامِ پاکستان کے وقت یہاں براڈکاسٹنگ کا نسبتاً طاقت وَر نظام کام کررہا تھا۔
پشاور کی جغرافیائی اور لسانی سمت شمال مغربی سرحد، قبائلی علاقوں اور افغانستان کی جانب تھی۔ پَشتو اِس کی اہم زبان تھی۔ آل اِنڈیا ریڈیو نے اکتوبر ۱۹۳۹ء میں افغانستان کے سامعین کے لیے دہلی سے پَشتو کی مختصر موجی نشریات بھی شروع کردی تھیں۔ پشاور میں دہلی کی مختصر موجی نشریات وصول اور ریلے کرنے کی فنی صلاحیت موجود تھی۔ یوں پشاور محض ایک مقامی تفریحی اسٹیشن نہیں تھا؛ سرحدی اطلاعات اور افغانستان سے متعلق وسیع تر نشریاتی حکمتِ عملی میں بھی اُس کی خاص اہمیت تھی۔
تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی رات پشاور ریڈیو اسٹیشن خاموش نہیں رہا تھا؛ یہاں سے اُردو میں آفتاب احمد اور پَشتو میں عبداللہ جان مغموم نے پاکستان کے قیام کے اعلانات نشر کیے۔ یوں پاکستان کی پہلی رات پشاور نے سرحدی صوبے کے لوگوں کو اُن کی اپنی زبان میں نئی مملکت کے قیام کی خبر دی۔
ڈھاکہ ریڈیو اسٹیشن
ڈھاکہ ریڈیو نے ۱۶ دسمبر ۱۹۳۹ء کو باقاعدہ نشریات شروع کی تھیں۔ اُس کے اسٹوڈیو پُرانے ڈھاکا کی ناظم الدین روڈ پر ایک کرائے کی عمارت میں قائم تھے، جہاں بعد میں شیخ برہان الدین کالج قائم ہوا۔ اُس کا ۵ کلوواٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر شہر سے الگ کلیان پور میں نصب تھا۔
ڈھاکہ نئی مملکت کے سب سے زیادہ آبادی والے حصّے کا مرکزی شہر تھا۔ بنگالی پاکستان کی اکثریتی آبادی کی زبان تھی، لیکن ڈھاکہ مغربی پاکستان سے تقریباً ایک ہزار میل دُور واقع تھا۔ اُس کے پانچ کلوواٹ میڈیم ویو ٹرانسمیٹر کی نشریات مغربی پاکستان تک نہیں پہنچ سکتی تھیں، مگر مشرقی بنگال کے لیے ڈھاکہ ہی پاکستان براڈکاسٹنگ سروس کی بنیادی آواز تھا۔
دستیاب تحقیق کے مطابق ڈھاکہ کی اِفتتاحی نشریات لاہور کے تقریباً ایک گھنٹے بعد ہوئیں جس کی وجہ بنگال کا باقی ماندہ برٹش انڈیا سے وقت کا فرق ہونا تھا۔
ڈھاکہ سے پاکستان براڈکاسٹنگ سروس کے قیام کا اعلان بنگالی ڈراما نگار اور براڈکاسٹر نذیر احمد نے کیا۔ اعلان کے بعد قرآنِ مجید کی تلاوت نشر ہوئی۔ اِس کے بعد معروف بنگالی لوک گلوکار عباس الدین احمد نے بنگالی نغمہ “شوکول دیشیر چَیے پیارا” پیش کیا۔ پھر اُنہی کی آواز میں اُردو قومی نغمہ “زمیں فردوس، پاکستان کی ہوگی زمانے میں” بھی نشر ہوا۔(بحوالہ: ڈاکٹر ماہروبا موطوشی، “فورجنگ اے نیشن آن ایئر: ریڈیو اینڈ دی اَرلی نیشنل ساؤنڈ اسکیپ اِن ایسٹ پاکستان، ۱۹۴۷ء–۱۹۵۲ء”، برَیک یونیورسٹی جرنل)
ڈھاکہ کی اِس پہلی نشریات میں بنگالی، اُردو اور قرآنی عربی ایک ساتھ سُنائی دیں۔ یہ محض ایک ریڈیو پروگرام نہیں تھا؛ نئی مملکت کے مشرقی حصّے کی زبان، ثقافت اور مذہبی شناخت کا اِبتدائی صوتی اِظہار تھا۔
لاہور ریڈیو اسٹیشن
ایک دسمبر ۱۹۳۷ء کو گورنر پنجاب سر ہربرٹ ایمرسن نے آل اِنڈیا ریڈیو لاہور کا اِفتتاح کیا۔ یہاں ۵ کلوواٹ کا میڈیم ویو ٹرانسمیٹر اور پانچ صوتی اعتبار سے تیار کردہ اسٹوڈیو موجود تھے۔ مرکز کو کنٹرول روم، مائیکروفون، تقریر، موسیقی اور ڈرامے کی نشریات کے وسائل، ہنگامی اسٹوڈیو اور تربیت یافتہ پروگرام و انجینئرنگ عملہ بھی فراہم کیا گیا تھا۔
لائنل فیلڈن کی سرکاری رپورٹ لاہور اسٹیشن کو پانچ کلوواٹ کے نشریاتی مراکز کے فنی نمونے کے طور پر بیان کرتی ہے۔ رپورٹ میں صرف ٹرانسمیٹر کی طاقت ہی درج نہیں؛ اسٹوڈیوز کی صوتی ساخت، کنٹرول روم، مائیکروفون، ہنگامی اِنتظام اور اسٹوڈیو سے ٹرانسمیٹر تک آواز پہنچانے والی مخصوص لائنوں کی تفصیل بھی دی گئی ہے۔
لاہور اسٹیشن کے مرکزی اسٹوڈیو اور ٹرانسمیٹر ایک جگہ واقع نہیں تھے۔ محکمۂ ڈاک و تار نے دونوں کے درمیان دو مخصوص، ایکسچینج سے غیرمنسلک صوتی لائنیں اور ایک عام ایکسچینج لائن فراہم کی تھی۔ ایک مخصوص لائن سے اسٹوڈیو کا پروگرام ٹرانسمیٹر تک پہنچتا، جبکہ دوسری لائن خرابی کی صُورت میں متبادل کے طور پر رکھی گئی تھی۔ معمول کے حالات میں اِسی متبادل لائن کے ذریعے اسٹوڈیو کے کنٹرول روم اور ٹرانسمیٹر کے عملے کے درمیان رابطہ بھی کیا جاتا تھا۔
آزادی کے وقت لاہور اسٹیشن شملہ پہاڑی کے قریب ایک پُرانی عمارت میں کام کررہا تھا، جسے بعد کے بعض حوالوں میں فضلِ حسین بلڈنگ کہا گیا۔ موجودہ براڈکاسٹنگ ہاؤس بہت بعد میں، ۱۹۶۵ء میں استعمال میں آیا۔
پشاور اور ڈھاکہ نے اپنے اپنے لسانی اور جغرافیائی دائروں میں نئی مملکت کا اعلان کیا، لیکن پاکستان براڈکاسٹنگ سروس کی اِفتتاحی نشریات میں مرکزیت لاہور کو حاصل ہوئی۔ اِس مرکزیت کی بنیاد محض لاہور کی سیاسی یا ثقافتی شہرت نہیں، بلکہ اُس کا پہلے سے موجود مکمل نشریاتی ڈھانچا بھی تھا۔
لاہور محض ایک فعّال ریڈیو اسٹیشن کا حامل شہر نہیں تھا؛ وہ مغربی پاکستان کا سب سے بڑا علمی، اَدبی، صحافتی اور ثقافتی مرکز بھی تھا۔ یہاں بڑے اخبارات، اشاعتی ادارے، کالج اور جامعہ موجود تھے۔ اُردو اور پنجابی کے ادیب، شاعر، ڈراما نگار، موسیقار اور فن کار اِسی شہر میں جمع تھے۔ آل اِنڈیا ریڈیو لاہور پہلے ہی انگریزی، اُردو اور پنجابی میں پروگرام پیش کرنے، ڈرامے تیار کرنے اور موسیقی نشر کرنے کی مضبوط روایت قائم کرچکا تھا۔
لاہور کی ایک علامتی حیثیت بھی تھی۔ ۱۹۴۰ء کی وہ تاریخی قرارداد، جس نے برصغیر کے مسلم اکثریتی علاقوں کے لیے الگ ریاست کا راستہ متعین کیا، اِسی شہر میں منظور ہوئی تھی۔ سات برس بعد اِسی شہر کے مائیکروفون کو نئی مملکت کا نام پہلی مرتبہ فضا میں پکارنا تھا۔
تیرہ اگست کی رات لاہور اسٹیشن نے معمول کے مطابق اپنی نشریات جاری رکھیں۔ رات کے آخری حصّے تک اُس کی سرکاری شناخت “آل اِنڈیا ریڈیو، لاہور” تھی۔ مروّجہ تاریخی روایت کے مطابق رات گیارہ بجے صداکار ظہور آذر نے انگریزی میں سامعین کو بتایا کہ نصف شب کو آزاد اور خودمختار مملکتِ پاکستان وجود میں آجائے گی۔ اُس کے بعد معمول کی نشریات اور خصوصی پروگرام کے درمیان مختصر وقفہ آیا۔
نصف شب کے قریب ظہور آذر کی آواز اُبھری:
“یہ پاکستان براڈکاسٹنگ سروس، لاہور ہے۔ اب ہم آپ کے لیے ’آزادی کی صبح‘ کے موضوع پر ایک خصوصی پروگرام پیش کر رہے ہیں۔”
:اِس کے بعد مصطفیٰ علی ہمدانی نے اُردو میں اعلان کیا
“اَلسّلامُ عَلَیکُم! پاکستان براڈکاسٹنگ سروس۔ ہم لاہور سے بول رہے ہیں۔”
اِس اعلان کی مختلف تحریری روایات میں الفاظ اور وقت کے معمولی اِختلافات ملتے ہیں۔ بعض حوالوں میں اعلان ۱۱ بج کر ۵۹ منٹ پر اور بعض میں عین نصف شب بیان ہوا ہے۔ اِسی طرح بعض مقامات پر انگریزی اور اُردو دونوں اعلانات مصطفیٰ علی ہمدانی سے منسوب کردیے گئے ہیں؛ لیکن ریڈیو پاکستان کی ادارہ جاتی روایت ظہور آذر کو انگریزی اور مصطفیٰ علی ہمدانی کو اُردو اعلان کی آواز قرار دیتی ہے۔
تیرہ اور چودہ اگست ۱۹۴۷ء کی درمیانی رات پاکستان نے کسی ایک شہر اور کسی ایک زبان میں جنم نہیں لیا۔ لاہور سے انگریزی اور اُردو، پشاور سے اُردو اور پَشتو، جبکہ ڈھاکہ سے بنگالی میں پاکستان براڈکاسٹنگ سروس کی اِفتتاحی نشریات سُنائی دیں۔ ڈھاکہ کی نشریات میں قرآنی عربی کی تلاوت اور اُردو قومی نغمہ بھی شامل تھا۔
پاکستان براڈکاسٹنگ سروس نے اپنے قیام کے پہلے ہی لمحے یہ واضح کردیا تھا کہ وہ کسی ایک شہر، خطّے یا زبان کا ریڈیو نہیں، بلکہ ایک قومی نشریاتی ادارہ ہے۔ انگریزی، اُردو، پَشتو اور بنگالی میں نشر ہونے والے اعلانات نئی مملکت کے مختلف لسانی اور جغرافیائی خطّوں کو ایک ہی قومی آواز میں سمو رہے تھے۔
یہ محض ۱۳ اور ۱۴ اگست کی درمیانی ایک رات کا اِعزاز نہیں تھا؛ ۱۹۴۷ء سے آج تک ریڈیو پاکستان نے اپنی کثیر لسانی قومی شناخت برقرار رکھی ہے۔ آج بھی اُس کے مختلف اسٹیشن پاکستان میں بولی جانے والی علاقائی زبانوں میں پروگرام، خبریں اور خبرنامے نشر کرتے ہیں۔ اُس کی بین الاقوامی زبانوں میں پیش کی جانے والی بیرونی نشریات پاکستان کا مؤقف، تہذیب، ثقافت اور قومی بیانیہ دُنیا کے مختلف خطّوں تک پہنچاتی ہیں۔
تیرہ اور چودہ اگست ۱۹۴۷ء کی درمیانی رات جس ادارے نے “پاکستان براڈکاسٹنگ سروس” کے نام سے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا، آج، اُناسی برس گزرنے کے بعد، وہی ادارہ “پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن” کی صُورت میں زندہ و جاوید ہے۔ ذرائعِ اِبلاغ کی بدلتی ہوئی دُنیا، نجی نشریاتی اداروں کی آمد اور شدید مسابقت کے باوجود ریڈیو پاکستان نے نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھا، بلکہ نئی ٹیکنالوجی کے مطابق اپنی آواز کے راستے بھی بدل لیے ہیں ۔
تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان



