Friday, August 14, 2026
پہلا صفحہخبریںمیر رضا کیس کی شفاف تحقیقات ہوں گی، اہلخانہ کو باخبر رکھا...

میر رضا کیس کی شفاف تحقیقات ہوں گی، اہلخانہ کو باخبر رکھا جائے گا: وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ میر رضا کیس کی منصفانہ تفتیش ہوگی اور ہر مرحلے پر خاندان کو جانکاری دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ جب کیس حل ہو جائے گا تو پولیس اور میڈیکل کی کوتاہیوں پر کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے معاملے میں کچھ بھی آئین کے علاوہ نہیں ہوگا۔

میر رضا کیس کی تفتیش پولیس کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ جوڈیشل کمیشن کیس کی تفتیش کے لیے نہیں بنایا گیا تھا، بلکہ اس کا مقصد پولیس اور میڈیکل سسٹم میں موجود کوتاہیوں کی نشاندہی تھا۔

میر رضا کے خاندان نے جوڈیشل کمیشن نہ بنانے کی ضرورت ظاہر کی تھی۔ حکومت نے اس کی رائے کا احترام کیا۔ انہوں نے کہا کہ کیس کی تفتیش مکمل ہونے کے بعد جو کوتاہیاں سامنے آئیں گی، ان پر کارروائی کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

نئے صوبوں کے معاملے پر وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ اب کسی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت نہیں ملے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ سندھ کے عوام ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ انہوں نے پنجاب کے مطالبے کا حوالہ دیا اور کہا کہ وہاں قراردادیں منظور ہو چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب کے لوگوں کو سندھ کی فکر ہے تو وہ آئینی طریقے سے کام کریں، سندھ میں انتخابات لڑیں۔ اگر عوام انہیں حمایت کریں تو وہ ان کی خدمت کریں۔ اگر نہ کریں تو اپنی جماعت سے کہیں کہ وفاقی حکومت کے ذریعے سندھ کے لوگوں کی خدمت کریں۔

سی سی آئی کے اجلاس نہ بلانے پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ 90 دن میں اجلاس بلانا ضروری ہے۔ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وفاقی حکومت سے پوچھا جائے کہ سندھ کے مطالبے کے باوجود اجلاس کیوں نہیں ہو رہا۔

لاپتہ بچی پریا کماری کی بازیابی کے بارے میں انہوں نے اعتراف کیا کہ اب تک کوئی کامیابی نہیں ہوئی۔ چند بار معلومات ملی تھی لیکن کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی کوششیں جاری ہیں۔

میر رضا 28 جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے۔ ان کی لاش 29 جولائی کو گلستانِ جوہر میں ملی تھی۔ پولیس نے ابتداء میں خودکشی قرار دی تھی۔ لیکن قبر کشائی اور دوسرے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ نے سچائی ظاہر کی۔

میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں مقتول کے جسم پر تشدد کی تصدیق ہوئی۔ ان کی پسلیاں، دانت اور کھوپڑی ٹوٹی ہوئی تھی۔ گولی بھی ماری گئی تھی۔ اس لیے قتل کی دفعہ شامل کی گئی۔

تفتیشی ٹیم میر رضا کے فون کے ریکارڈ کی جانچ کر رہی ہے۔ جس کے مطابق انہوں نے علی اور عبداللہ سے بات کی تھی۔ فون پر آخری آٹھ پیغامات تھے جن کا کوئی جواب نہیں ملا۔

نیوز ڈیسک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس