Friday, August 7, 2026
پہلا صفحہثقافتبغیر اجازت ’عینک والا جن‘ پر اے آئی فلم بنانا ڈائریکٹر حفیظ...

بغیر اجازت ’عینک والا جن‘ پر اے آئی فلم بنانا ڈائریکٹر حفیظ طاہر کو ناگوار گزرا

حفیظ طاہر بہت افسردہ اور غصے میں ہیں۔ ان کا مشہور ڈرامہ “عینک والا جن” کا نام اور تصور استعمال کرتے ہوئے ایک نئی اینیمیٹڈ فلم بنائی گئی ہے۔ حفیظ طاہر کا کہنا ہے کہ یہ ان کی تخلیقی ملکیت پر “دن دہاڑے ڈاکہ” ہے۔

حفیظ طاہر نے ایک ویڈیو میں کہا کہ وہ دہائیوں کی محنت اور تخلیق کو استعمال کرتے ہوئے بغیر اجازت فلم بنائی گئی ہے۔ وہ اسے سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔

حفیظ طاہر کا کہنا ہے کہ “عینک والا جن” صرف ایک ڈرامہ نہیں بلکہ ان کی برسوں کی تخلیقی محنت کا نتیجہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ان کا آئیڈیا، ان کی تخلیق ہے، اور انہوں نے ہی اس کا نام رکھا اور ہدایت کاری کی۔

حفیظ طاہر نے 90 کی دہائی میں پی ٹی وی کے لیے ایک بہترین سیریل بنایا تھا جو بہت مقبول ہوا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی فلم بنانے والے فلم ساز فرحان خان نے نہ تو ان سے اجازت حاصل کی اور نہ ہی انہیں اس منصوبے میں شامل کیا گیا۔

حفیظ طاہر کا کہنا ہے کہ نہ فلم بنانے والوں نے ان سے رابطہ کیا اور نہ ہی پی ٹی وی نے پروڈکشن کے دوران ان سے رابطہ کرنے کی زحمت کی۔

حفیظ طاہر نے ایک ویڈیو میں اے آئی فلم پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلم میں ڈرامے کے کرداروں کی شکلیں بگاڑ دی گئی ہیں۔ خاص طور پر نسطور جن کا کردار ایک ڈاکو کی طرح ہے۔ اس کا چہرہ بھی خراب کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فلم میں آوازیں اور میوزک بھی ناقص ہے۔ یہ ڈرامے کی اصل روح کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

حفیظ طاہر نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی فنکار کا تخلیقی کام اس کی قیمتی ملکیت ہوتا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے بھی اصل تخلیق کار کے حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی مشہور ڈرامے یا کردار کو نئی شکل میں پیش کرنے سے پہلے تخلیق کار کی اجازت لینا ضروری ہے۔

حفیظ طاہر نے عوام سے پوچھا ہے کہ کیا اس پر صرف ماتم کر کے خاموش رہا جائے یا کوئی قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔

عینک والا جن ایک یادگار بچوں کا کامیڈی اور فینٹسی ڈرامہ تھا۔ یہ ڈرامہ 1993 سے 1996 تک پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کیا گیا تھا۔ اس ڈرامے کے کردار، کہانی، مزاح اور اخلاقی سبق نے اسے بچوں اور بڑوں میں بہت مقبول بنایا تھا۔ نسطور جن، زکوٹا جن، بل بتوڑی، حموں اور دیگر کردار آج بھی لوگوں کی یادوں میں ہیں۔

ڈرامے کے مشہور کردار جیسے زکوٹا جن اور بل بتوڑی اب نہیں رہے۔ نسطور جن کا کردار شہزاد قیصر نے ادا کیا تھا۔

اس معاملے پر فلم ساز فرحان خان یا پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا ہے کہ فلم کی تیاری کے دوران اصل تخلیق کار سے حقوق یا اجازت کے حوالے سے کوئی معاہدہ کیا گیا تھا یا نہیں۔

نیوز ڈیسک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس
- Advertisment -

مقبول ترین

ریسینٹ کمنٹس