ایران نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی میں تعاون کرنے والے ہر مقام کو اپنی مسلح افواج کے لیے جائز ہدف سمجھا جائے گا۔ تہران نے آبنائے ہرمز میں امریکی مداخلت کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ راستہ وہی ہے جسے ایران نے مقرر کیا ہے۔
ایرانی حکام نے کہا ہے کہ امریکہ نے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنوبی ایران کے مختلف علاقوں پر حملے کیے، جس کے بعد ایران اپنی خودمختاری کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
ایران کے خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے کہا ہے کہ امریکی حملوں کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا اور امریکا کو آبنائے ہرمز میں مداخلت یا اس اہم بحری گزرگاہ کے انتظام میں کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں اور آئل ٹینکروں کی محفوظ آمدورفت کے لیے صرف وہی راستہ محفوظ سمجھا جائے گا جو ایران نے مقرر کیا ہے۔
ایران کی نیشنل سکیورٹی، فارن پالیسی کمیشن کے ترجمان ابراہیم رضائی کا کہنا ہے کہ ایران کی قوم بہادر اور ثابت قدم ہے، قوم ٹرمپ سمیت کسی بھی دھمکی سے خوفزدہ نہیں، ہم کسی بھی شیطان سے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 5 فی صد اضافہ ہوا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے خدشات نے سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا کر دی ہے، جبکہ تیل مہنگا ہونے سے عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔




