Metro Live

ندا یاسر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شادی شدہ مردوں کے اخراجات بھی والدین اٹھاتے ہیں

پاکستان کی مشہور میزبان ندا یاسر نے شادی شدہ مردوں کو والدین کی جانب سے مالی معاونت ملنے کے رجحان پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو خودمختار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ندا یاسر کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو خودمختار بنائیں اور ان کی شادیاں تب ہی کریں جب وہ کمانے کے قابل ہو جائیں۔

ندا یاسر نے کہا کہ مغرب میں 14 سال کے بچے کچھ نہ کچھ کام کرنا شروع کر دیتے ہیں اور 18 سال کی عمر میں اپنے گھر کے کرائے، پڑھائی کے اخراجات خود اٹھاتے ہیں۔

لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے، والدین جب تک پال سکتے ہیں تب تک پالتے ہیں۔ ہمارے یہاں الٹا نظام ہے۔ یا تو چھوٹا بچہ جس کے کھیلنے کودنے کی عمر ہے وہ پورے گھرانے کو پال رہا ہوتا ہے یا 40، 50 سال کا آدمی بھی اپنے والدین کے پیسوں پر پل رہا ہوتا ہے۔

ندا یاسر کا کہنا ہے کہ پاکستان میں یہ رجحان بالکل غلط ہے۔ اسے آہستہ آہستہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے بچوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کا مستقبل روشن دیکھ سکیں۔ صرف ڈگری دلانا یا ان کے اخراجات پورے کرنا ہمارے فرائض کا حصہ نہیں ہے، انہیں صحیح سمت میں پرواز کروانا بھی ہمارا فرض ہے۔

نیوز ڈیسک

Exit mobile version