Tuesday, August 9, 2022
پہلا صفحہ تبصرے سقوطِ ڈھاکہ کے تناظر میں بنی پاکستانی فلم”کھیل کھیل میں“ پر تبصرہ

سقوطِ ڈھاکہ کے تناظر میں بنی پاکستانی فلم”کھیل کھیل میں“ پر تبصرہ

کورونا جیسی موذی وبا نے جہاں دنیا بھر میں ہر شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا، وہیں پوری دنیا کی فلمی صنعتیں بھی متاثر ہوئیں، جس میں پاکستانی فلمی صنعت بھی شامل ہے، جو پہلے ہی آخری دموں پر ہے اور پاکستانی فلم ساز اپنی مدد آپ کے تحت اس کو بحال کرنے کی تگ ودو کر رہے ہیں، ان کو کسی طرح کی حکومتی مدد میسر نہیں ہے۔ ایک طویل تعطل کے بعد، ابھی حال ہی ریلیز ہونے والی پہلی پاکستانی فلم”کھیل کھیل میں“ دیکھی، جس کا موضوع 1971 میں مشرقی پاکستان کا مغربی پاکستان سے الگ ہونا ہے، اس کو سقوطِ ڈھاکہ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ میں نے یہ فلم شہرِ کراچی کے مشہور سینما کیپری میں دیکھی اور دل گرفتہ ہوا کہ اتنے اچھے موضوع پر ایک بری فلم بنائی گئی ہے۔
فلم سازوں کو اس بات کی داد تو دینی پڑے گی، انہوںنے کمرشل سینما میں کام کرتے ہوئے اس موضوع کا انتخاب کیا۔ اس فلم کا پوسٹر دیکھا جائے یا اس کی ظاہری پیشکش پر غور کیاجائے، تو بظاہر بہت حسین اور دلکش انداز ہے، مگر اس کہانی کے ضمن میں تلخی پنہاں ہے، تاریخ کے وہ گھاﺅ ہیں، جن سے آج بھی خون رِستا ہے کہ کس طرح دو ممالک، جو ایک دوسرے کا بازو تھے، دونوں نے مل کر 1947 میں انگریز سرکار سے آزادی حاصل کی تھی، کس طرح ہندوستانی چالبازیوں نے اس بھائی چارے پر کاری ضرب لگائی، ان دونوں کے آپسی اختلافات کو تعصب کی ہوا دی اور ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ اس پاکستانی فلم میں آدھی ادھوری پیش کی گئی تاریخی کہانی کو سمجھنے کے لیے اس کا پس منظر جانناہوگااور وہ تکنیکی پہلو بھی، جن کے بغیر اس طرح کی فلمیں کامیابی سے نہیں بنائی جاسکتیں۔

فلم کا آفیشل پوسٹر

کمرشل سینما میں رہتے ہوئے بھی ہر ملک اور قوم کو ضرورت ہوتی ہے، وہ کچھ ایسی فلمیں بھی بنائے، جس میں اس کی فکری اساس موجود ہو، اس کی سیاسی بساط اور ملکی بیانیے کو پیش کیا جاسکے، دنیا بھر میں ایسی فلمیں بنائی جاتی ہیں، جن کو فلمی دنیا کی زبان میں”پروپیگنڈہ فلمیں“ کہا جاتا ہے، ان فلموں کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ یہ ایک خاص مقصد سے بنائی جاتی ہیں اور فلم بین بالخصوص تاریخ کے طالب علموں کو یہ بہت متاثرکرتی ہیں، فلم بنانے والا بھی چاہتا ہے کہ تاریخ کا وہ پہلو، جس کو وہ بیان کر رہا ہے، ناظرین بھی اسی پر ایمان لے آئیں۔ اس طرح کے مقاصد کے تحت بنائی جانے والی فلموں میں ہالی ووڈ سرفہرست رہا، اس نے دنیا میں جہاں بھی جنگیں کیں، ان خطوں کے تناظر میں، وہاں کے مقامی لوگوں کو ولن دکھا کر فلمیں بناتا رہا، چاہے وہ جنگ عظیم دوم پر بنائی گئی فلمیں ہوں، یا پھر ویت نام اور افغانستان کے پس منظرمیں بنائی گئی فلمیں، بلکہ پاکستان میں اسامہ بن لادن کے سلسلے میں، امریکی فوج نے جس طرح براہ راست مداخلت کرتے ہوئے ایبٹ آباد آپریشن کیا، اس پر بھی ہالی ووڈ میں ایک فلم”زیرو ڈارک تھرٹی“ بنائی گئی، جو تکنیکی اعتبار سے ایک مضبوط فلم ثابت ہوئی، حتیٰ کہ اس کا دورانیہ عام فلموں سے زیادہ تھا، جو ہالی ووڈ میں بنائی جاتی ہیں، اس کے باوجود اس فلم میں آخر تک تجسس کا عنصر کم نہ ہوااورفلم بین اس کے اختتام تک اسکرین سے جڑے رہے۔
اسی طرح پڑوسی ملک بھارت کے کچھ فلم ساز بھی پروپیگنڈے فلمیں بنانے کے ماہر ہیں، جس طرح ہندو مسلم تعلقات کے تناظر میں ،معروف بھارتی فلم ساز سنجے لیلا بھنسالی نے کئی ایک ایسی فلمیں بنائیں، جن میں سرفہرست ”پدماوت“تھی، جس میں علاﺅ الدین خلجی کے کردار کو مسخ کرکے پیش کیا گیا، اس حوالے سے میں نے ڈان اردو کے لیے دو تحریریں قلم بندکیں، ان کو پڑھ کر آپ اس فلم کے پیچھے متحرک نفسیات کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ ان تمام باتوں کے باوجود، وہ تکنیکی طور پر ایک شاندار فلم ہے ، جس کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوا کہ فلم ساز نے مسلمانوں کے دل میں سنہری خنجر اتارا ہے،یعنی زخم تو دیا، مگر اس لطیف پیرائے اور جمالیاتی آہنگ میں کہ ہم وہ فلم دیکھ کر عش عش کراٹھے۔
https://www.dawnnews.tv/news/1072349برصغیر کی مسخ شدہ تاریخ پر مبنی مگر شاندار فلم

کسی بھی کامیاب پروپیگنڈ ہ سینما کی یہ عملی نفسیات ہوتی ہے، مگر افسوس زیر نظرپاکستانی فلم”کھیل کھیل میں“ کہیں یہ والا ٹریٹمنٹ دکھائی نہیں دیا، انتہائی بچکانہ اور سطحی مکالمات اور مونولاگز پر مبنی، روکھی پھیکی کہانی، جس میں موجودہ بلوچستان کی چشم آشوبی، بنگلہ دیش میں بہاریوں کی آبادی، ہندوستانیوں کا سقوط ڈھاکہ میں شرمناک کردار اوردیگرپہلوﺅں کو دکھانے کی ناکام کوشش کی گئی، اتنے بڑے بڑے موضوعات ایک ساتھ چھیڑ دیے گئے، مگر پھر ان کو کہانی میں سمیٹا نہ جاسکا، یہی وجہ ہے کہانی اپنے اختتام پر کچھ خاص جذباتی تاثرقائم نہ کرپائی۔ موجودہ دور میں، ہندوستانی نوجوان نسل یا پاکستانی اور بنگالی نوجوان نسل، ان کی اکثریت کافی مثبت سوچ بھی رکھتی ہے، مگر اس فلم میں ان کی بھی منفی سوچ کو ہی محور بنایا گیا، جبکہ درحقیقت اب ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔

کھیل کھیل میں، کا آفیشل ٹریلر

اس فلم کی کہانی کا مرکزی خیال کچھ یوں ہے، ایک کالج کے طلبا ہیں، جو تھیٹر کاایک ایسا کھیل تیار کر رہے ہیں، جس میں پاکستان کے دونوں حصوں میں اختلافات سے فائدہ اٹھاکر کس طرح ہندوستان نے ان کو ایک دوسرے سے الگ الگ کیا، اس کوبیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان سے کچھ طلبا ڈھاکہ جاتے ہیں ایک تھیٹر فیسٹیول میں شرکت کے لیے اور ان کے ساتھ ایئرپورٹ سے لے کر فیسٹیول ہونے تک جو سلوک رکھا جاتا ہے، وہ بہت خراب ہوتا ہے، تھیٹر فیسٹیول چلنے کے درمیان فلم کامرکزی کردار، جس کو سجل علی نے ادا کیا ہے، وہ فلم میں ایک پاکستانی فوجی افسر کی بیٹی ہے اور وہ دوران فیسٹیول، اپنے دادا کو ڈھونڈنے نکل پڑتی ہے، جو بہاری ہیں اور ان کو موجودہ بنگلہ دیش نے فراموش کر دیا ہے، وہ بے سروسامانی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اسی کہانی میں بلوچستان، بھارتی جاسوسوں اور اکہتر کی جنگ کے جابجا آدھے ادھورے حوالے ملتے ہیں۔ کچھ اہم مناظر تھے بھی ،توان کو ٹریٹمنٹ ٹھیک نہیں ملا، جیسے دادا پوتی کا ملاپ، پس منظر کی موسیقی سے بہت جاندار بنایا جاسکتا تھا، اسی طرح فلم کے کچھ کلائمکس جو بہت مضبوط تو نہیں تھے، پھر بھی انہیں عمدہ مکالمات اور موسیقی کے ذریعے پیش کیا جاسکتاتھا، مگر بلال عباس سمیت اداکاروں کی اکثریت نے ڈراموں والی اداکاری کی روش اس بڑی اسکرین پر اپنائے رکھی، جس نے کہانی کو مزید کمزور کر دیا۔
اس فلم کو دیکھتے ہوئے اور خاص طورپر سجل علی کی اداکاری کو دیکھتے ہوئے بار بار یہ الجھن ہوئی کہ ہم یہ نئی فلم”کھیل کھیل میں“دیکھ رہے ہیں یا کچھ عرصہ پہلے ریلیز ہونے والی ویب سیریز ”دھوپ کی دیوار“دیکھ رہے ہیں یا پھر ہم پاکستانی ڈراما ”عہدِ وفا“دیکھ رہے ہیں۔ سب میں ایک جیسی اداکاری، ٹی وی اور فلم کا فرق بھی ان کی اداکاری میں کوئی رخنہ نہ ڈال سکا۔ زیرنظرفلم میں منظر صہبائی اور نظرالحسن نے عمدہ اداکاری کی۔ شہریار منور، جاویدشیخ اور ایسے کئی اداکاروں کے کردار صرف بھرتی کے طور پر دکھائی دیے۔
پاکستانی فلم سازوں کو یہ بات سمجھنا ہوگی، اگروہ تاریخ پر مبنی فلمیں بنانا چاہتے ہیں توپہلے ایسے موضوعات پر مطالعہ کریں، تمام تاریخی پہلوﺅں کو مدنظررکھیں اور پھر کمرشل سینما کے تقاضوں کے ساتھ اپنی کہانی کو بیان کریں، مگر ایسی کہانیوں کو اتنا ہی کمرشل کریں، جن سے اس طرح کی کہانیوں کاخیال مجروح نہ ہو۔ تمام باتوں کے باوجود یہ فلم ایک کوشش کے طور پر اچھی رہی، مگر یہ سلسلہ باقاعدگی سے جاری رہا، تو ان تجربات سے گزر کر ہم بھی ایسی فلمیں بناسکیں گے، جن کو دیکھ کر دشمن کراہ اٹھے، مگر اس کی زبان پر واہ واہ بھی ہو۔ اس فلم کاویڈیو تبصرہ بھی دستیاب ہے، جس کو آپ دیکھ سکتے ہیں۔

کھیل کھیل میں، پر بے لاگ تبصرہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس

لاک ڈاؤن کے بعد سے بولی وڈ پر ناکامی کے بادل چھائے ہیں۔ فلم انڈسٹری دس ملین ڈالرز کا نقصان برداشت کرچکی ہے

کرونا سے پہلے بھی بولی وڈ انڈسٹری کی حالت کچھ ذیادہ اچھی نہیں تھی اور ہندوستان کے سب سے بڑے فلمی...

یاراوے، کی نمائش ایک بار پھر خطرے میں۔ مرینہ خان سمیت دیگر کے واجبات کی ادائیگی کا معاملہ عدالت پہنچ گیا

بھارتی ڈائریکٹر منیش پوار کی فلم ’یارا وے‘ 16 ستمبرکو پاکستان میں ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن کئی...

باکس آفس رپورٹ: لندن نہیں جاؤں گا، 22 کروڑ 84 لاکھ اور قائد اعظم زندہ باد، 20 کروڑ 61 لاکھ کا بزنس

عید الاضحی پر ریلیز ہونے والی تینوں پاکستانی فلمیں چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکی ہیں تاہم عید ریلیزز کا بزنس اب...
- Advertisment -

مقبول ترین

لاک ڈاؤن کے بعد سے بولی وڈ پر ناکامی کے بادل چھائے ہیں۔ فلم انڈسٹری دس ملین ڈالرز کا نقصان برداشت کرچکی ہے

کرونا سے پہلے بھی بولی وڈ انڈسٹری کی حالت کچھ ذیادہ اچھی نہیں تھی اور ہندوستان کے سب سے بڑے فلمی...

یاراوے، کی نمائش ایک بار پھر خطرے میں۔ مرینہ خان سمیت دیگر کے واجبات کی ادائیگی کا معاملہ عدالت پہنچ گیا

بھارتی ڈائریکٹر منیش پوار کی فلم ’یارا وے‘ 16 ستمبرکو پاکستان میں ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن کئی...

باکس آفس رپورٹ: لندن نہیں جاؤں گا، 22 کروڑ 84 لاکھ اور قائد اعظم زندہ باد، 20 کروڑ 61 لاکھ کا بزنس

عید الاضحی پر ریلیز ہونے والی تینوں پاکستانی فلمیں چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکی ہیں تاہم عید ریلیزز کا بزنس اب...

دودا، 2 ستمبر کو سنیما گھروں کی زینت بنے گی

دودا، پہلی بلوچی فلم ہے جو سنیما گھروں کی زینت بننے جارہی ہے۔ فلم کا اُردو ڈب ورژن بھی ریلیز کیا...

ریسینٹ کمنٹس