Tuesday, August 9, 2022
پہلا صفحہ مضامین کھیل کھیل میں، کیا بات کی جارہی ہے؟

کھیل کھیل میں، کیا بات کی جارہی ہے؟

پاکستان کا نام افسوس ناک حد تک ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں جہاں فلم میکنگ کو معلومات، تعلیم یا قومی ایشوز کوبین الاقوامی سطح تک پہنچانے کے لیے استعمال کیا جاتاہے۔ یہاں گذشتہ 70 سالوں میں اور خاص طور آخری کچھ دہائیوں میں فلم کو محض تفریح، فحاشی یا ذرائع آمدنی کے طورپر ہی استعمال کیا گیا ہے۔ ماضی میں ہمارے کچھ فلم میکرز نے (جن میں ریاض شاہد اور خلیل قیصر کا نام نمایاں ہے)، شہید ، سسرال ، فرنگی ، زرقا ، غرناطہ، اور یہ امن، جیسی فلموں کے ذریعے فلم سے ابلاغ کا کام لیا۔ ریاض شاہد کی آخری فلم ” یہ امن “ کے ساتھ اس زمانے میں سینسر بورڈ نے جو کچھ کیا وہ ایک افسوسناک تاریخ ہے۔ اس فلم میں مسئلہ کشمیر کو موثر طریقے سے اُجاگر کیا گیا مگر بھارت سے پہلے پاکستان میں اس فلم کی مخالفت دیکھنے میں آئی اور نصف سے زیادہ فلم کاٹ دی گئی۔ ریاض شاہد زندہ تھے کہ سقوطِ ڈھاکہ رونما ہوا۔ انہوں نے اُس دور میں ہی اس سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے فلم بنانے کا اعلان کیا لیکن ”یہ امن“ کے ساتھ ہوئے نارواسلوک سے دلبرداشتہ ہوکر وہ بستر مرگ سے جالگے۔ سینسر بورڈ کے ہاتھوں ان کی درد ناک موت کے بعد پھر کبھی کسی فلم میکر نے ایسے موضوعات کو چھیڑنے کی جرات تک نہ کی۔
ایک طویل عرصے بعد کھیل کھیل میں، ایک ایسی کاوش ہے کہ جس سے ریاض شاہد کی خوشبو آتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ یوں تو سانحات سے بھری پڑی ہے لیکن سقوطِ ڈھاکہ ایسا گہرا زخم ہے، جس کا مداوا ممکن نہیں۔ آج پچاس سال گزرگئے، نئی نسل یہ بھی نہیں جانتی کہ بنگلہ دیش کبھی پاکستان کا حصہ تھا۔ نصاب کی کتابوں سے یہ باب حذف کردیا گیا۔ ایسا کیا ہوا تھا؟ کیوں ہوا تھا کہ جس قوم نے پاکستان کے قیام میں پیش پیش رہ کر مرکزی کردار ادا کیا ، آخر وہ کیونکر اپنے ہی وطن کے خلاف ہوگئی۔ اس کا فائدہ ہمارے ازلی دشمن بھارت نے کیسے اُٹھایا؟ ان تمام حقائق پرکئی سالوں سے پردہ پڑا ہے۔ اس پردے کو پہلی بار بڑے پردے پر اُٹھایا جارہا ہے۔
کھیل کھیل میں، کے مرکزی کردار اسٹوڈنٹس ہیں۔ ایک تھیٹر پلے کرتے ہوئے یہ کردار کھیل ہی کھیل میں ماضی کی طرف پلٹتے ہیں اور سچ کی کھوج میں نکلتے ہیں۔ یہیں سے شروع ہوتا ہے حال سے ماضی کا سفر جب بھیانک حقائق نئی نسل پر آشکار ہوتے ہیں۔جہاں یہ لوگ ماضی کی غلطیوں کی تلاش کرتے ہیں، وہیں انہیں یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ ہم ملک کے دو لخت ہونے کے نقصان پر مٹی ڈال کر خاموشی سے آگے بڑھ رہے ہیں لیکن دشمن خاموش نہیں بیٹھا ہے، اس کا مشن جاری ہے۔ وہ پاکستان کی مزیدتقسیم چاہتا ہے۔ ایسٹ پاکستان والا گیم اب وہ بلوچستان میں کھیلنا چاہتا ہے۔ سقوطِ ڈھاکہ نے محب وطن پاکستانیوں کو کس قدر نقصان پہنچایا، یہ سب ” کھیل کھیل میں “کے ذریعے نمایاں کیا جارہا ہے۔ قیام پاکستان کی ہجرت سے بدترین خوں ریزی اس موقع پر ہوئی۔ ڈھاکہ کو آج بھی پاکستان کا حصہ سمجھنے والے زندہ ہیں جو روتی آنکھوں سے کہتے ہیں ”میرا ڈھاکہ“۔ خوں ریزی سے آنسوﺅں کی لڑی تک ، بے حسی سے بے بسی تک، کھیل کھیل میں، کا تانا بانا انہی سسکیوں کے درمیان بُنا گیا ہے۔
اس فلم کے ڈائریکٹر نبیل قریشی ہیں جن کی اب تک کی تمام کاوشوں کو خاص و عام میں پذیرائی ملی ہے۔

چھوٹی اسکرین کے حامل جدید سینما ہوں یا بڑے اسکرین کے روایتی قدیم سینما سب پر ان کی فلمیں ” نامعلوم افراد “ (دونوں حصے)، ”ایکڑ ان لاء“ ، ”لوڈ ویڈنگ“ ریکارڈ بزنس اور مقبولیت حاصل کرچکی ہیں۔ ان کی ایک فلم ”قائداعظم زندہ باد“ تقریباً تیار ہے ۔ لیکن کورونا پھیلاﺅ روکنے کے لئے سب سے پہلے پاکستانی سینما زد میں آیا ۔ سینما ہاﺅسز بند ہوئے تو فلمیں جہاں تھیں وہیں رک گئیں ۔ فرصت کے دنوں میں، فروری 2021 میں ”کھیل کھیل میں“ بنانے کا اعلان ہوا۔ جولائی میں اطلاع ملی کہ فلم کی شوٹنگ مکمل ہوچکی ہے ۔ساتھ یہ بھی کہا گیا محض 55 دن لگے اسے بنانے میں جو ایک ریکارڈ ہے۔
نبیل قریشی اور فضا علی مرزا کا کمبی نیشن اب تک نہ صرف کامیاب بلکہ معیاری فلموں کے اشتراک کے طور سامنے آیا ہے ۔ فلموں کے اسکرپٹ پر دونوں کی محنت بھی نمایاں ہوتی ہے ۔ اسی طرح ”کھیل کھیل میں “ کے اسکرپٹ پر بھی نبیل قریشی اور فضاعلی مرزا کا نام ہے ۔ دونوں ہی کہتے ہیں کہ اس اسکرپٹ کی تیاری میں پچھلی چار فلموں سے زیادہ محنت کرنی پڑی ہے ۔ کیونکہ یہ ایک حساس موضوع ہے جس کے حقائق پر دانستہ پردہ پڑا ہے ۔ کچھ جگہ پر تو ہمیں ایسا لگا کہ ہم نے کسی ممنوعہ علاقے میں قدم رکھ دیا ہے ، جہاں جہاں قدم پر ہم پر پابندی لگائی جارہی ہیں کہ ہمیں یہ کرنا ہے اور یہ نہیں کرنا ہے ۔
جس طرح اسکرپٹ پر ٹیم کی محنت ہے ، اس سے کہیں بڑھ کر اس کہانی کو اس کے معیار کے مطابق سلور اسکرین پر منتقل کرنے کا معاملہ تھا ۔ اسکرپٹ کا تقاضا یہی تھا کہ فلم کی شوٹنگ ڈھاکہ یا اس کے گردو نواح کی جائے خاص طور محصورین پاکستان کو دکھانا ، ان مقامات کو پیش کرنا جہاں وہ گندگی اور غلاظت میں آج بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ 1971 کے حالات و واقعات پیش کرنے کیلئے اسی ماحول کو حقیقت سے قریب تر تیار کیا گیا، اسکرین پر جب 1971 کے واقعات آئیں گے تو کسی کو یقین نہیں ہوگا کہ یہ سب مناظر کراچی میں شوٹ کئے گئے ہیں اور آﺅٹ ڈور سیٹ ڈیزائننگ پر کثیر سرمایہ بھی خرچ کیا گیا ہے ۔ دور جدید کے ڈھاکہ کو پیش کرنے میں زیادہ مسئلہ یوں نہیں کہ کراچی اور ڈھاکہ دونوں ہی ایک جیسے لگتے ہیں لیکن 71 کا ڈھاکہ اور محصورین کے کیمپ دکھانا حقیقت سے قریب تر، یقیناً ٹیم فلم والا کی کاﺅشوں کا نچوڑ قرار پائے گا۔ فلم کے سینما ٹوگرافررانا کامران ہیں۔ جنہوں نے انتہائی مہارت سے ماضی اور حال کے ڈھاکہ کو کیمرے میںمحفوظ کیا ہے۔ فلم کی جب جب تعریف ہوگی وہاں سینما ٹو گرافی کو یقیناً اولیت دی جائے گی ۔
فلم کی کاسٹ میں سجل علی اور بلال خان مرکزی کردار ادا کررہے ہیں، جبکہ فرحان علی آغا، نوید رضا، شہر یار منور، معیز حسن، لیلیٰ واسطی، زہرہ نواب کے ساتھ جاوید شیخ، مرینہ خان، سرمد صہبائی اور ثمینہ احمد جیسے کہنہ مشق فنکار بھی اپنی صلاحیتوں کو اظہار کرتے دکھائی دیں گے۔ یہ تاثر عام ہے کہ سجل علی کو اب تک ان کی صلاحیتوں کے مطابق کردار فلم کے لئے نہیں دیا گیا ہے۔ اس فلم کی ریلیز کے بعد صد فیصد یہ تاثر زائل ہوگا ۔ اسی طرح بلال خان بھی بڑے فلم اسٹار کے طور اپنی حیثیت منوانے میں کامیاب رہیں گے۔ مجموعی طور اس شعبے کے حوالے سے ایک لائن یہ لکھ دی جائے تو بہتر ہے کہ فلم کی کاسٹ میں شامل جو بھی فنکار ہیں انہیں اگر ایک منظر میں بھی اداکاری کا موقع ملا ہے تو اس نے خود کو منوایا ہے ۔ ایسا نہیں ہوگا کہ تبصرہ نگار یہ لکھے کہ فلاں فنکار کو ضائع کیا گیا ۔ بلکہ یہی لکھا جائے گا کہ ہر فنکار اپنے کردار میں نگینے کی طرح فٹ رہا۔

کھیل کھیل میں، کا شعبہ موسیقی بھی توجہ کا حامل یوں ہے کہ جہاں عشق و محبت کی چاشنی گیتوں میں محسوس ہوگی وہیں اس کے گیتوں میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی روایتی چپقلش، الزام تراشی اور حقائق کی بات کی گئی ہے۔ یہ تجربہ پہلی بار ہوا ہے کہ گانے میں بھارت کو ”ابھی نندن کی چائے “کا کپ بھی یاد دلایا گیا ہے۔ شعبہ موسیقی کے حوالے سے تین نام سامنے ہیں۔ ان میں شجاع حیدر ،شانی ارشد اوراسرار شاہ شامل ہیں، امید ہے ناقدین سے یہ صاحبان بھی تعریف کلمات حاصل کرینگے۔
فلم چھوٹی ہو یا بڑی، اس کے پیچھے ایک ٹیم ہوتی ہے۔ کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو کسی وجہ سے سامنے نہیں آتے لیکن ان شمولیت باآسانی محسوس کی جاتی ہے ۔ ”کھیل کھیل میں“ جو اپنے نام سے تفریحی اور رومانوی فلم لگتی ہے۔ ماضی میں ہندوستان میں اس نام پر کئی فلمیں بن چکی ہیں ۔ پاکستان میں یہ ٹائٹل پہلی بار استعمال میں آیا ہے لیکن کھیل کھیل میں نئی نسل کو ملکی تاریخ کی تلخ حقیقت سے آگاہی کے ساتھ حال میں ہونیوالی سازشوں پر آنکھیں کھولنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ”ٹیم فلم والا“ کس حد اپنے مقصد میں کامیاب رہے گی، اس کا نتیجہ تو باکس آفس رپورٹ کے بعد سامنے آئے گا لیکن نبیل قریشی، فضا علی مرزا، اگر آپ کی فلم کے شو کے اختتام پر سینما ہال میں موجود کسی ایک فرد نے کھڑے ہوکر تالیاں بجادیں تو سمجھنا آپ کا مقصد پورا ہوگیا۔ نئی نسل تک آپ کی جرات مندی، آپ کا پیغام پہنچ گیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

متعلقہ پوسٹس

لاک ڈاؤن کے بعد سے بولی وڈ پر ناکامی کے بادل چھائے ہیں۔ فلم انڈسٹری دس ملین ڈالرز کا نقصان برداشت کرچکی ہے

کرونا سے پہلے بھی بولی وڈ انڈسٹری کی حالت کچھ ذیادہ اچھی نہیں تھی اور ہندوستان کے سب سے بڑے فلمی...

یاراوے، کی نمائش ایک بار پھر خطرے میں۔ مرینہ خان سمیت دیگر کے واجبات کی ادائیگی کا معاملہ عدالت پہنچ گیا

بھارتی ڈائریکٹر منیش پوار کی فلم ’یارا وے‘ 16 ستمبرکو پاکستان میں ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن کئی...

باکس آفس رپورٹ: لندن نہیں جاؤں گا، 22 کروڑ 84 لاکھ اور قائد اعظم زندہ باد، 20 کروڑ 61 لاکھ کا بزنس

عید الاضحی پر ریلیز ہونے والی تینوں پاکستانی فلمیں چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکی ہیں تاہم عید ریلیزز کا بزنس اب...
- Advertisment -

مقبول ترین

لاک ڈاؤن کے بعد سے بولی وڈ پر ناکامی کے بادل چھائے ہیں۔ فلم انڈسٹری دس ملین ڈالرز کا نقصان برداشت کرچکی ہے

کرونا سے پہلے بھی بولی وڈ انڈسٹری کی حالت کچھ ذیادہ اچھی نہیں تھی اور ہندوستان کے سب سے بڑے فلمی...

یاراوے، کی نمائش ایک بار پھر خطرے میں۔ مرینہ خان سمیت دیگر کے واجبات کی ادائیگی کا معاملہ عدالت پہنچ گیا

بھارتی ڈائریکٹر منیش پوار کی فلم ’یارا وے‘ 16 ستمبرکو پاکستان میں ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا ہے لیکن کئی...

باکس آفس رپورٹ: لندن نہیں جاؤں گا، 22 کروڑ 84 لاکھ اور قائد اعظم زندہ باد، 20 کروڑ 61 لاکھ کا بزنس

عید الاضحی پر ریلیز ہونے والی تینوں پاکستانی فلمیں چوتھے ہفتے میں داخل ہوچکی ہیں تاہم عید ریلیزز کا بزنس اب...

دودا، 2 ستمبر کو سنیما گھروں کی زینت بنے گی

دودا، پہلی بلوچی فلم ہے جو سنیما گھروں کی زینت بننے جارہی ہے۔ فلم کا اُردو ڈب ورژن بھی ریلیز کیا...

ریسینٹ کمنٹس