fbpx 

Trailer Review of Yalghaar-The Movie

2
d70K4

  آنے والی عید الفطر کی بڑی فلم ’’یلغار‘‘ کے ٹریلر کی رونمائی

عمر خطاب خان

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
کچھ ایسا ہی ماجرہ آنے والی عید الفطر پر ریلیز ہونے والی فلم ”یلغار“ کے ٹریلر کا ہے۔
اُمید تو تھی کہ بطور ڈائریکٹر حسن وقاص رانا اپنی پچھلی پروڈکشن ”وار“ سے مذید بہتر کام کے ساتھ سامنے آئیں گے لیکن ٹریلر کی حد تک ڈائریکٹر نے خاصا مایوس کیا ہے۔ اس کے باوجود ہم اُمید رکھتے ہیں کہ اصل فلم ٹریلر سے زیادہ معیاری اور بہتر ہوگی۔
کسی بھی فلم کا ٹریلر یا ٹیزر اس کا پہلا چہرہ ہوتا ہے جو آڈیئنس کے سامنے آتا ہے اور یہی فرسٹ امپریشن فلم کی باکس آفس رپورٹ یا بکنگ پر اثر انداز ہوتا ہے لیکن حیرت ہے کہ حسن رانا نے اتنی بڑی فلم کا اتنا بھیانک چہرہ کیوں آڈیئنس کے سامنے پیش کرنے کی جسارت کی؟ میں تو اسے ڈائریکٹر پروڈیوسر کی جرأت کہوں گا۔ بلکہ زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس ٹریلر کو خود کش حملے سے تشبیہ دوں کیونکہ یہ ٹریلر فلم کی پہلے سے بنی بنائی ہائپ پر اثر انداز ہوا ہے۔ یلغار، کے ٹریلر کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں اسکرین پلے کہیں نظر نہیں آتا۔ یعنی فلم کے انٹروڈکشن میں ہی اسکرین پلے نہ ہو تو فلم میں اسے کہاں تلاش کریں گے؟

گولہ بارود کی گھن گرج کے ساتھ شروع اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ کے ساتھ اختتام پزیر ہونے والے 2منٹ اور 44سیکنڈ کے ٹریلر میں آپ یہ تک نہیں جان پاتے کہ اس فلم کو بنانے کا مقصد کیا ہے؟

کیا یہ فلم طالبان کے مذموم عزائم اور دہشت گردی کا احاطہ کرتی ہے ؟ یا پھر پڑوسی ملک کی پروپیگنڈہ فلموں کا جواب ہے۔
پی ٹی وی پر بچوں میں مقبول ڈرامہ سیریز عینک والا جن، کے انداز میں شروع ہونے والے ٹریلر میں سب سے پہلے ہمایوں سعید جیسے معصوم ولن کا بگ کلوز نظر آتا ہے اور پھر وائس اوور۔

‘‘میں ضرورت ہوں،اس دنیا ،اس ملک کی۔’’

آخر یہ طالبان کمانڈر کیا پیغام دے رہا ہے؟
آگے چلتے ہیں۔
کچھ سمجھ نہیں آرہا ۔۔۔وار فیلڈ ہے اور گولیاں چل رہی ہیں۔ کون دشمن ہے ،کون دوست؟ اندازہ لگانا مشکل ہے۔

عائشہ عمر کو ایک بنکر میں قید دکھایا گیا ہے۔ شان،بلال اشرف،عدنان صدیقی،ایوب کھوسہ، گوہررشید،سب کے ہاتھ میں گن ہے۔ ثنا بچہ بھی گن سے کھیلتی دکھائی دیتی ہے۔ آسمان پر ،زمین پر۔ ہر طرف بارود ہی بارود۔ پٹاخے ہی پٹاخے۔ دھماکے۔ آگ ہی آگ۔ آخر یہ ہو کیا رہا ہے؟ کیا ایٹمی جنگ چھڑ گئی ہے؟اور پھر اصل سوال۔۔۔آخر دشمن کو ن ہے؟

مجھے یاد ہے کہ جب پڑوسی ملک میں جے پی دتہ نے”بارڈر“ بنائی تھی۔ اس فلم کا ویڈیو پاکستان میں بین تھا لیکن مہنگے داموں مل جاتا تھا۔ ہر چند کہ یہ فلم ہماری فوج کے خلاف تھی اور ہر پاکستانی کا خون کھول گیا تھا کہ بولی وڈ نے ایسی گستاخانہ فلم کیوں کر بنائی لیکن فلم کے سبجیکٹ سے قطع نظر بارڈر، میں جے پی دتہ نے اپنا پوائنٹ آف ویو اس مضبوط انداز میں پیش کیا کہ دیکھنے والا خواہ کسی بھی ملک سے تعلق رکھتا ہو،فلم کے مؤثر پیغام کے زیر اثرآیا۔ اسی لیے فلم کو دنیا بھر میں سب سے مؤثرمیڈیم تصور کیا جاتا ہے،خاص طور پر پروپیگنڈہ مقاصد کے لیے فلم سے بہتر ہتھیارنہیں ہے۔ ہالی وڈ نے ویت نام جنگ میں اپنی ناکامی اور نقصان چھپانے کے لیے معرکۃ الارا فلمیں بنائیں تو روس، جرمنی اور فرانس نے بھی فلم کو ایک ہتھیارکے طور پر استعمال کیا۔ بولی وڈ بھی پیچھے نہیں رہا۔ بھارت نے اپنی پروپیگنڈہ فلموں میں،تقسیم ہند،کشمیر، 65ءکی جنگ میں ناکامی، 71ءکی سازش،سیاچن اور کارگل کے محاذوں پر شکست کو فلمی رنگ دینے کی کوشش کی اور کئی زبردست فلمیں بنائیں جن میں بارڈر،سرفروش،ارتھ،غدر،روجا،ہندوستان کی قسم،قابل ذکر ہیں لیکن ان فلموں کے جواب میں ہم کیا بنارہے ہیں؟
بارڈر ،کا جب ٹریلر ریلیز ہوا تھا تو اس سے قطع نظر کہ یہ فلم وارفیر سے متعلق تھی ، فلم کے ایک گیت ”سندیسے آتے ہیں….“نے ہی کھلبلی مچادی تھی۔ ممکن ہے یلغار، کے ڈائریکٹر حسن رانا کے پاس یہ جواز ہو کہ ابھی فلم تو آنے دوبھیا۔ فلم میں وہ سب کچھ ہوگا جو آڈیئنس ڈیمانڈ کرتی ہے یعنی ایموشنز،فیملی افیئرز،رومینس،ڈراما،میوزک وغیرہ وغیرہ۔لیکن میرا سوال پھر بھی اپنی جگہ ہے۔ یہ سب کچھ ٹریلر میں کیوں نہیں دکھایا جاسکتا تھا؟
خیر ہو آئی ایس پی آر کی جنہوں نے اس فلم کو عالیشان بنانے کے لیے حسن رانا کو بھرپور لاجسٹک سپورٹ دی لیکن نجانے کیوں مجھے فلم کی ریلیز سے پہلے ہی ایسا لگتا ہے کہ اس فلم میں اسکرین پلے کی کمی ضرور محسوس ہوگی ۔اوریہ احساس ہمیں ٹریلر دیکھ کر ہوجاتا ہے۔
ہم میں سے بیشتر کو پی ٹی وی کے کلاسک دور کے وہ ڈراماز ضرور یاد ہوں گے جو نشان ِ حیدر کے عنوان سے چلا کرتے تھے ۔اس سیریز میں میجر طفیل اختر شہید، میجر عزیز بھٹی شہید اور راشد منہاس شہید کے لانگ پلیزنے ہمارے ذہنوں میں گہرے نقش چھوڑے ہیں۔اس دور میں جبکہ سنیما اس قدر ایڈوانس ہوچکا ہے،آپ یلغار،پر پچاس کروڑ خرچ کرنے کا دعواکرتے ہیں، حسن رانا سے ہماری اُمیدیں بھی اتنی ہی بلند وبانگ ہیں جس قدر اس فلم کا بجٹ۔


Yalghaar Trailerby metro-live

#Yalghaar

About author

metrolive

The author and admin of this site is Umar Khitab Khan. Have 20 years experience in media industry, he wrote many scripts for TV, write ups and features for magazines and news papers. A book based on biographies of celebrities also on his credit. His magazine Monthly Metro Live very popular in intellectuals but also in masses, He is affiliated with many social and professional organizations like Arts Council of Pakistan and Karachi Union of Journalists. He is also a film critic and member of SBFC (Sindh Board of Film Censors).

2 comments

  1. best pron 13 October, 2018 at 13:40 Reply

    kV8FcN Wonderful ideas you have here.. Take pleasure in the blog you available.. Truly appreciate the entry you made available.. Enjoying the blog post.. thank you

Post a new comment

You may interested