fbpx 

Unforgettable Waheed Murad!!

0
waheed_murad_2_dcfsb_pak101dotcom

کتنی عجیب بات ہے کہ موت جو انسان سے سب کچھ چھین لیتی ہے! عزت، دولت، شہرت، دنیا اور اس کے معاملات، بے معنی ہوجاتے ہیں ۔وہاں وحید، نے مرنے کے بعد ایسا دائمی عروج پالیا ہے کہ جسے کبھی زوال نہیں آئے گا! اسی عروج اور کامرانی کی توقع تو وہ زندگی میں چاہتا تھا مگر نہیں جان سکا کہ یہ سب کچھ چھن جانے پر اس انسان کی حالت کیا ہوسکتی ہے جو ساری زندگی شہرت کے نشے میں دُھت رہا! وحید بھی جب تنہا رہ گیا تو ناکامی کا گھن اسے اندر ہی اندر چاٹتا رہا اور پھر ایک دن وہ سب کو بے قرار کرکے قرار پا گیا! سلور اسکرین کا چاکلیٹی ہیرو۔ لیڈی کِلر ویدو، مداح جس کے دیوانے تھے، وہ صرف اس کی مدح سرائی ہی نہ کرتے تھے، عشق کرتے تھے، اس لئے کہ ویدو نے ان کے دل میں گھر کرلیا تھا! اپنی فلموں میں اس نے اداکاری کے وہ انمٹ نقوش چھوڑے کہ ہر ایک کے تصور میں اس کا ماہتاب چہرہ کسی شہزادے کی تصویر کی طرح محفوظ ہوگیا! ایک زمانہ تھا کہ جب لڑکیاں اپنے پرس میں ویدو کی تصویریں چھپائے پھرتی تھیں! نصاب کی کتابوں میں مطالعے کی آڑ میں ویدو کے دیدار کئے جاتے تھے! صرف یہی نہیں، ٹین ایجرز اور کالج گوئنگ لڑکوں میں بھی اس کا اتنا کریز تھا کہ سیلون بارز میں اس کے قد آور پوسٹرز سجے ہوتے تھے اور ہر دیوانہ اپنے پیارے ویدو کے اسٹائل میں ہیئر کٹنگ کروانے کی فرمائش کرتا نظر آتا تھا۔ پھر کیا ہوا؟ ویدو کے سارے دوست، سارے دیوانے کہاں چلے گئے؟ وحید کی فلمیں دھڑا دھڑ فلاپ ہونے لگیں اور اس کا دورِ زوال آیا تو سایہ بھی ساتھ چھوڑ گیا! کبھی اسکرین پر ویدو کو اپنے مخصوص انداز میں گانا پکچرائز کراتے دیکھ کر سنیما ہال میں موجود لوگ اس کی اَداﺅں پر جھوم اٹھتے تھے! میرے خیالوں پہ چھائی ہے….، تھری چیئرز فار بھابھی ہپ ہپ ہرے….، جھوم اے دل کہ میرا جانِ بہار آیا ہے….، سوچا تھا پیار نہ کریں گے…. اور کتنے ہی ایسے سپر ہٹ گانے ہیں جنہیں وحید کی وجہ سے مقبولیت ملی لیکن جب وہ ہیرو، اپنوں کے پرائے ہونے کے غم سے شناسا ہوا تو پھر اس نے اپنے چاہنے والوں کی اس صدا پر بھی دھیان نہ دیا کہ جو اُن کے دل سے نکلی آواز تھی ….اکیلے نہ جانا ہمیں چھوڑ کر تم، تمہارے بنا ہم بھلا کیا جئیں گے….!

1492971_orig

اپنی پہلی پلاٹینم جوبلی ہٹ ارمان، میں زیبا کے سنگ یہ گیت گنگنانے والے ویدو کو اندازہ تھا کہ اس کے چلے جانے سے دنیا کا کوئی کام متاثر نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی کہ یہ اس دنیا کی ریت ہے، جو زندوں سے زندہ رہنے کا حق چھین لیتی ہے لیکن مرنے والوں کی یہاں پرستش کی جانے لگتی ہے! وحید کے ساتھ بھی یہی ظلم ہوا! اس کی کہانی بھی دوسروں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے لیکن وہ مر کر امر ہوگیا! ان روایتی فلمی کہانیوں کے ہیرو کی طرح جو اپنی محبت کو پانے میں ناکامی کے بعد جان دے دیتا ہے اور لوگوں کی ہمدردیاں پالیتا ہے! وحید نے بھی اپنی زندگی کے آخری ایام بے حد کرب میں گزارے! کوئی اسے حوصلہ دینے والا نہ تھا! بیوی امریکہ میں تھی! ماں، لاہور میں اور خود وحید، کراچی میں کرنل ایوب کی کوٹھی میں زندگی کی آخری سانسیں گن رہا تھا! ایسے میں اس ہیرو کے پاس کوئی اور چارہ نہ تھا کہ اپنی زندگی کی بازی ہار کر امر ہوجائے۔ آخر ویدو نے جان دے دی اور ہارتے ہارتے، جیت گیا! 23 نومبر 83ءکی صبح، وحید کے انتقال کی دل خراش خبر کے ساتھ طلوع ہوئی تو کون نہیں جانتا تھا کہ موت، وحید کے لئے سکون کا سامان کرگئی! اگر وہ اور زندہ رہتا تو نہ جانے کتنے دکھ، کتنی تکلیفیں اور المیے اُسے مزید ستاتے!

6199083_orig

ایک ایسا ہیرو جو کبھی نہ غروب ہونے کے ارادے سے طلوع ہوا، جب اس کی شہرت کو زوال آیا توتقدیرنے اسے کیا کچھ نہ دکھایا۔ویدو کی شخصیت، ازدواجی زندگی اور کیریئر کے حوالے سے کئی سوالات ہیں جو ہنوز معمہ ہیں۔
ہیرا اور پتھر، ارمان، دیور بھابی، دوراہا، ناگ منی، شمع، وقت، اور جانے کتنی ہی ایسی فلمیں ہیں جن میں وحید مراد کے ساتھ لوگ ہنستے اور روتے نظر آئے! وحید کی چارمنگ پرسنالٹی میں وہ خاص کشش تھی کہ مداح اس پر دیوانہ وار فریفتہ تھے خصوصاً لڑکیوں کا یہ عالم تھا کہ وہ ویدو کی تصویریں اپنے پرس اور کتابوں میں چھپائے، دل سے لگائے رکھتی تھیں! پاکستانی سنیما کے حوالے سے شاید ہی ایسی کوئی دوسری مثال ملتی ہو کہ کسی اسکرین اسٹار نے اس حد تک مقبولیت حاصل کی کہ اسے” فینو مینا“کا درجہ حاصل ہوا! وحید کے بالوں کا اسٹائل، گانے پکچرائز کرانے اور ڈرامائی پچ پر مکاملے ادا کرنے کا انداز، ڈریس ز اور جوتوں کا فیشن اس قدر پاپولر ہوئے کہ ان کا کریز سرحدیں عبور کرتا پڑوسی ملک بھارت میں بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہوا! اس زمانے میں جیتندر، بولی وڈ میں اسٹرگلر ہیرو کے طور پر جدوجہد کررہے تھے لیکن جب جیتو نے وحید کے اسٹائل کو فالو کیا تو دیکھتے ہی دیکھتے شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا! 60 اور 70کی دہائی میں جب سیلونز میں دلیپ کمار ہیئر اسٹائل سب سے زیادہ ڈیمانڈ میںتھا،برصغیر کے دوسرے اسٹائلش ہیرو کے طور پر وحید مراد کا نام ابھرا اور پھر اس رومانوی ہیرو نے کچھ اس ادا سے کامیابی پائی کہ وحید جو کپڑے پہنتا، وہ یوتھ کی چوائس بن جاتے! اس کے جوتے، شرٹس، ہیئر اسٹائلنگ، ہر چیز کاپی کی گئی! ایک دور تو ایسا آیا کہ ہر دوسرا نوجوان خود کو وحید مراد تصور کرنے لگا! اپنے پیارے ہیرو کو دماغ میں بسائے نوجوانوں نے اظہار محبت کے لئے بھی ویدو کے فلمی انداز کو فالو کرنا شروع کردیا اور لڑکیاں خواہش کرنے لگیں کہ ان کا رئیل لائف ہیرو بھی انہیں اسی انداز میں پرپوز کرے جس طرح کہ ان کا فیورٹ چاکلیٹی ہیرو اسکرین پر اپنی ہیروئن ز کے جذبات ابھارتاتھا! ویدو نے کلاسیکی کرداروں جیسا سحر اور شہرت حاصل کرلی تھی اور یہی خطرناک مقبولیت اسے نگل گئی! جب کامیابی کے دیوتا کا بت ٹوٹ کر بکھر گیاتو اس کے ساتھ ہی وحید مراد بھی ریزہ ریزہ ہوگیا! نازونعم سے پلنے والے وحید کے لئے بڑا مشکل تھا کہ وہ زمانے کی سختیوںکو جھیل سکتا لہٰذا جب بے پناہ عروج و کامیابی پانے کے بعد اسے ذرا سا جھٹکا لگا تو وہ سنبھل نہیں پایا اور پھر گرتا ہی چلا گیا!

6245633_origوحید نے فلم لائن میں قدم رکھا تو اسے اپنا کیریئر بنانے کے لئے زیادہ مشکلات پیش نہیں آئیں! وحید کے والد نثار مراد، فلم ڈسٹری بیوشن بزنس سے منسلک تھے اور مستحکم کاروباری شخصیت کے طور پر جانے مانے جاتے تھے! ان کے بیٹے کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا، اس لئے بھی کہ بیشتر بڑی فلموں کے رائٹس انہی کے ادارے پاکستان فلمز کے پاس ہوا کرتے تھے اور فلم والے نثار مراد کے بااصول کاروباری ہونے کے قائل تھے! وحید نے بھی باپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہی اصولوں کو اپنایا اور جب اپنا پروڈکشن ادارہ فلم آرٹس کے نام سے بنایا تو کبھی کسی کو ادائیگیوں کے معاملے میں شکایت کا موقع نہیں دیا! وحید نے فلم سازی کے علاوہ ایکٹنگ، ڈائریکشن، گلوکاری اور اسکرپٹ رائٹنگ کے شعبوں میں بھی خود کو آزمایا لیکن اسے اندازہ تھا کہ ایکٹنگ ہی اس کا اصل میدان ہے، جہاں وہ جیسے اور جس طرح چاہے، کھیلنے کی صلاحیت رکھتا تھا! وحید کی ورسٹائلٹی اور اس کی ایکٹنگ اسکلز کو زیر بحث لانے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم وحید مراد کے بیک گراﺅنڈ سے متعلق کچھ جان سکیں! اس سے بڑی حد تک واضح ہوجائے گا کہ جب وحید، زوال کے ہاتھوں ڈپریشن اور دوسری بیماریوں کا شکار ہوا تو اس کا پس منظر کیا تھا!
سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے وحید نے مستحکم کاروباری شخصیت نثار مراد کے گھر 2 اکتوبر 1938ءکو آنکھ کھولی! نثار مراد اور ان کی بیگم شیریں، ننھے وحید کی پیدائش پر اس لئے بھی بہت خوش تھے کہ وحید ان کے گھر آنے و الی پہلی خوشی تھی! اکلوتا ہونے کی وجہ سے دونوں میاں بیوی نے وحید کو بڑے ناز و نعم سے پالا اور اس کی ہر جائز و ناجائز فرمائش پوری کی گئی! نتیجتاً بابا (گھر والے پیار سے بابا کہتے تھے) ضدی اور خود سر ہوگیا! کھلنڈرے پن کا عنصر بچپن میں ہی اس کی شخصیت میں شامل ہوگیا اور وہ ایک ناپختہ انسان کے طور پر عمر کے تمام مراحل سے گزرتا چلا گیا! وحید کی موت کے عوامل پر ایک ماہر نفسیات نے تجزیہ کیا کہ چونکہ وحید نے بچپن میں بہت لاڈ و پیار دیکھا اور زندگی کی ان مشکلات کا سامنا نہیں کیا جو عام انسان کی راہ میں حائل ہوتی ہیں اور جو ایک انسان کو مضبوط ،پختہ اور حا لات سے مقابلہ کرنے کے قابل بناتی ہیں لہٰذا اس کی شخصیت لا ابالی پن کا شکار ہوگئی اور یہی اسباب تھے جن کی وجہ سے وحید اپنے زوال کے پیریڈ میں خاصا چڑچڑا، ہٹ دھرم اور مایوس ہوگیا تھا! نثار مراد نے اپنے بیٹے کو زندگی کی ہر آسائش دی اور ماں شیریں بیگم کی جانب سے اسے بے پناہ پیار ملا! انہی رویوں کی توقع وہ دنیا سے کرتا تھا لیکن جب ویدو نے عملی زندگی میں قدم رکھا تو اسے احساس ہوا کہ یہ دنیا تو اس کے گھر کے ماحول سے بے حد مختلف اور متضاد ہے!

5386247_orig

ابتدا میں جب وحید نے اپنے والد کا ادارہ پاکستان فلمز، جوائن کیا تو اسٹاف کے لوگوں نے بھی وحید کو سر آنکھوں پر بٹھائے رکھا اور اسے دنیا کی کم ظرفی اور سختیوں کا احساس نہیں ہونے دیا لیکن جب وحید نے فلم سازی کی فیلڈ اپنائی اور اپنا پروڈکشن ہاﺅس فلم آرٹس کے نام سے قائم کیا تو دھیرے دھیرے اسے لوگوں کے رویئے سمجھنے کا موقع ملا مگر وحید نے ان چیزوں کو کبھی اہمیت نہ دی، وہ اپنی ہی دنیا میں مگن رہا اور ان دنیاوی حقیقتوں سے کوئی سروکار نہیں رکھا جن کو سیکھے اور جانے بغیراور ان تلخ سچائیوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان سے مقابلہ کئے بغیر انسان، کندن بننے کا دعوا نہیں کرسکتا! ان بنیادی تجربات سے محرومی کا احساس وحید کو تب ہوا جب اپنے آس پاس موجود لوگوں نے اسے نظر انداز کرنا شروع کردیا اور وہ دوستوں کی بے وفائی کے زخموں سے گھائل ہوا۔لاابالی اور کھلنڈرا ہونے کے باوجود وحید نے تعلیمی میدان میں اپنے والدین کی امیدوں کو نہ توڑا اور ایوریج اسٹوڈنٹ کہلانے کے باوجود اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کی! نصاب کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں میں وحید کا ریکارڈ بے حد شان دار رہا اور اسپورٹس کے علاوہ ڈرامیٹک فیلڈ میں بھی اس نے اپنے تعلیمی اداروں کا نام روشن کیا۔ وحید نے، میری کلاکو سیکنڈری اسکول، سے 1952ءمیں میٹرک (بی گریڈ) کیا! ان دنوں وحید کا گھر کراچی میںلسبیلہ جماعت خانہ کے قریب اور اسکول سابقہ ناز سنیما (ایم اے جناح روڈ) کے عقب میں واقع تھا! وحید کے کلاس فیلوز میں ہدایت کار پرویز ملک اور موسیقار سہیل رعنا بھی آگے چل کر فلم لائن سے وابستہ ہوئے! اس اسکول کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں کئی فلمی و قومی ہیروز نے تعلیم حاصل کی خصوصاً فلم انڈسٹری سے منسلک کئی اہم شخصیات کی اولادوں نے اس اسکول سے تعلیم پائی! میٹرک کے بعد وحید کے ساتھیوں کے راستے جدا جدا ہوگئے اور وحید مراد، سندھ مسلم سائنس کالج آگیا جہاں اس نے ایف ایس سی کیا اور پھر سائنس مشکل لگی تو ایس ایم آرٹس کالج میں ایڈمیشن لے کر اس تعلیمی ادارے سے بی اے کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا! دوستوں کا حلقہ محدود ہونے کے باعث وحید کا زیادہ تر وقت اپنے گھر پر ہی کتابوں سے دل بہلاتے گزرتا، خصوصاً انگلش کلاسیکی ادب میں اس کی دلچسپی گہری تھی! اس رجحان کے سبب وحید نے جب MA کے لئے تیاری شروع کی تو ماسٹرز کرنے کے لئے انگلش لٹریچر جیسے مشکل سبجیکٹ کا انتخاب کیا جس میں وحید کی دلچسپی بہت زیادہ تھی۔ انگریزی ادب کے مطالعے اور پھر اس شعبے میں ماسٹرز کرنے کا فائدہ وحید کو اپنی اداکاری نکھارنے، اسکرپٹ لکھنے اور اپنی فلموں کے لئے موضوعات کے انتخاب میں مددگار ثابت ہوا! وحید نے کراچی یونیورسٹی سے 68ءمیں ماسٹرز ڈگری لی! ان دنوں وحید فلم انڈسٹری میں بے حد مصروف تھا اور ناصرف فلم پروڈکشن کررہا تھا بلکہ بطور اداکار بھی وحید کی کئی فلمیں سیٹس پر تھیں جن کی شوٹنگز مکمل کرانے کے ساتھ وہ ایگزام کی تیاری بھی کرتا رہتا! جن دنوں وحید کو اولاد، میں کاسٹ کیا گیا تھا، اس وقت بھی سچویشن یہ تھی کہ وحید رات بھر فلم کی شوٹنگ کے لئے لاہور میں موجود رہتا اور پھر صبح کی فلائٹ سے کراچی آجاتا تھا جہاں اسے BA فائنل ایئر کا ایگزام دینا تھا! پیپر دینے کے فوراً بعد لاہور روانگی کی تیاری شروع ہوجاتی اور اگلی فلائٹ سے وحید لاہور پہنچ جاتا! ان حالات میں بھی اس کے پیپرز اچھے ہوئے کیونکہ تعلیمی میدان میں وحید نے کبھی کمپرومائز نہیں کیا! وحید کے والد اور والدہ دونوں کا تعلق سیالکوٹ سے تھا اور اس پس منظر کے حوالے سے وہ ایک پنجابی فیملی سے تعلق رکھتے تھے لیکن گھر میں اردو اور انگریزی کا چلن زیادہ تھا کہ پوری فیملی ہی پڑھی لکھی اور رکھ رکھاﺅ والی تھی! وحید نے فلم لائن میں 1960ءمیںبطور فلم سازقدم رکھامگربطور اداکار اس کی پہلی فلم اولاد، تھی۔ وحید کی شہرت کا سورج دراصل ہیرا اور پتھر کی کامیابی کے بعد طلوع ہوا! یہ فلم 1964ءمیں ریلیز ہوئی اور اسی سال وحید نے سلمیٰ مراد سے شادی کرلی جو اس کی اپنی پسند اور والدین کی مرضی سے طے ہوئی! سلور اسکرین کے ہیروز کے حوالے سے مشہور ہے کہ شادی کرلینے کے بعد ان کی فین فولوئنگ متاثر ہوتی ہے لیکن دلچسپ بات ہے کہ شادی کی خبریں منظر عام پر آنے کے بعد بھی وحید مراد کی مقبولیت اور شہرت کے سلسلے کو بریک نہیں لگا اور وہ مقبول سے مقبول تر ہوتا چلا گیا! شادی کے بعد ہی اسے اسکرین پر اپنی ہیروئنز کے جذبات سے چھیڑ چھاڑ کرنے کے الزام میں لیڈی کلر، اور چاکلیٹی ہیرو کے خطابات سے نوازہ گیا اور یہ وہ اعزازات تھے جواُس کی شخصیت کے ساتھ چپک کر رہ گئے اور وہ تمام زندگی اس امیج سے چھٹکارا نہ پاسکا۔

6537383_origفلم اور فلمی ماحول وحید مراد کے لئے قطعی اجنبی نہ تھا! وحید کے والد نثار مراد پاکستان فلمز کے نام سے ڈسٹری بیوشن آفس چلاتے تھے جو سابقہ لائٹ ہاﺅس سنیما کے قریب ایم اے جناح روڈ پر واقع تھا! انہوں نے اپنے ادارے سے کئی انڈین فلمیں بھی اس زمانے میں ریلیز کیں جب بارٹر سسٹم کے تحت انڈین فلمیں پاکستان میں چلتی تھیں! نثار مراد ایک اچھے کاروباری کے طور پر جانے جاتے تھے اور بزنس کے حوالے سے فلم والوں سے ان کے گہرے روابط تھے! ان کا گھر بھی فلمی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہتا تھا اور اکثر دعوتوں کے بہانے سے وہ فلمی ستاروں اور اپنے فلمی کاروباری دوستوں کو گھر مدعو کیا کرتے تھے جن میں سنتوش، درپن فیملی سے لے کر ایس ایم یوسف وغیرہ شامل تھے! سنتوش اور درپن کی ذاتی پروڈیوس کردہ فلمیں بھی انہوں نے ریلیز کیں۔ اسی تناظر میں درپن و سنتوش سے ان کی اچھی دوستی اور کاروباری تعلق بھی تھا لیکن فلم والوں کے علاوہ بھی نثار مراد کا حلقہ احباب خاصا وسیع تھا جس میں بیورو کریٹس، سیاسی اور کاروباری شخصیات کا ان کے گھر آنا جانا رہتا تھا! وہ خود کئی سوشل کلبوں کے رکن تھے جبکہ وحید نے بھی کراچی جیم خانہ کی لائف ممبر شپ لے رکھی تھی جہاں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ان ڈور گیمز میں خصوصیت سے حصہ لیا کرتا اور باقاعدگی سے جیم خانہ جایا کرتا تھا! کرکٹ کے علاوہ وحید کو بیڈ منٹن کھیلنے کا بہت شوق تھا اور اکثر وہ اپنے اس شوق کی تکمیل، اسٹوڈیوز میں بھی کرتے دیکھا گیا! جب وحید زندگی کے روٹین معمولات سے اکتا گیا تو اس نے فیصلہ کیا کہ اپنے والد کے ساتھ بزنس میں ہاتھ بٹایا جائے اور کچھ اکنامکس کی بھی خبر لی جائے۔ لہٰذا وحید نے پاکستان فلمز کے دفتر میں اپنے لئے ایک علیحدہ پورشن حاصل کیا اور کچھ عرصہ اپنے والد کی زیر تربیت فلم بزنس کی جان کاری لینے کے بعد اسی دفتر سے فلم آرٹس پروڈکشن ہاﺅس لانچ کیا جس کے بینر تلے پہلی فلم انسان بدلتا ہے، پروڈیوس کی جس کے لئے ڈائریکٹر منور رشید کو لیاگیا! یہ فلم 5 مئی 1961ءکو ریلیز ہوئی اور اچھا بزنس کرنے میں کامیاب رہی! انسان بدلتا ہے، کی کاسٹ میں درپن، شمیم آرا وغیرہ کو کاسٹ کیا گیا تھا! فلم سازی کا تجربہ چونکہ وحید کے لئے سازگار ثابت ہوا تھا لہٰذا وحید نے ایسٹرن اسٹوڈیو میں اپنے پروڈکشن آفس کو مستقل طور پر قائم رکھنے کا ارادہ کرلیا۔ یہ آفس بعد میں وحید کے رابطہ دفتر کا بھی کام دیتا رہا جب وحید نے اداکاری شروع کردی تھی! بطور اداکار وحید کی پہلی سائننگ اولاد، میں اس کے کاسٹ ہونے کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے ۔چونکہ وحید کو ایکٹنگ سے قطعی دلچسپی نہ تھی اور خود وحید مراد کا یہ خیال تھا کہ اس کا سانولا سلونا سا چہرہ فلم کے لئے موزوں نہیں ہے لیکن نثار مراد کے ڈائریکٹر اور پروڈیوسر دوست اکثر وحید کو فلم میں کام کرنے کا مشورہ دیتے رہتے تھے! انہی میں ایک نام ڈائریکٹر ایس ایم یوسف کا بھی شامل تھا جو کئی بار نثار مراد سے اصرار کرچکے تھے کہ وحید کو فلم میں کام کرنے کے لئے راضی کریں، ویدو، ٹوٹلی فلم میٹریل ہے، مگر وحید نے ہر بار انکار کیا! بالآخر دباﺅ بڑھنے کے بعد والد کی خواہش پر وحید نے محض خود کو آزمانے کے لئے اولاد، میں ایک چھوٹا سا رول قبول کرلیا! اتفاق سے یہ فلم ہٹ ہوگئی اور وحید کی ایکٹنگ کی بھی تعریفیں کی جانے لگیں تو ویدو نے اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کیا ۔ اس وقت تک بھی وحید کی دلچسپی فلم پروڈکشن میں زیادہ تھی اور وہ خود کو اسکرین کے لئے قابل قبول تصور نہیں کرتا تھا! اسی کش مکش کے دوران نثار مراد کے پاس ان کے ایک اور دوست سنتوش کمار، وحید کو سائن کرنے کی آفر لے کر پہنچے تو نثار صاحب انہیں انکار نہ کرسکے اور وحید نے نیلو کے مقابل دامن،میںایک سائیڈ رول سائن کرلیا۔اس فلم کے ڈائریکٹر قدیر غوری اور لیڈ کاسٹ میں صبیحہ کے مقابل سنتوش خود تھے! یہ فلم 1963ءمیں ریلیز ہوئی! دامن، کی شوٹنگ کے لئے وحید لاہور گئے تھے لیکن کام مکمل کراکے واپس کراچی آگئے کیونکہ اس زمانے میں کراچی بھی فلم سازی کا سرگرم مرکز تھا جہاں لاہور سے زیادہ فلمیں بنتی تھیں! اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی کی فلمی صنعت کو پروان چڑھانے میں وحید مراد کے ذاتی فلم ساز ادارے نے بھی میجر کنٹری بیوشن دیا اور جس دن فلم آرٹس کا آفس کراچی سے ختم ہوا، اس کے بعد صحیح معنوں میں کراچی کی فلمی صنعت کا خاتمہ ہوگیا!

2326519_orig

فلم آرٹس کے بینر سے وحید نے دوسری پروڈکشن جب سے دیکھا ہے تمہیں، بنائی تو ایک بار پھر ہدایت کار منور رشید کو لیا اور موسیقی کے لئے اپنے ہمدم اور دوست سہیل رعنا کو چانس دیا جو اُن دنوں ریڈیو کے لئے کام کررہے تھے! کاسٹ میں زیبا، درپن لیڈ رولز کررہے تھے لیکن فلم کے ہیرو درپن نے وحید کو اتنا تنگ کیا کہ ویدو کی ساری اکڑ نکل گئی! وہ جو کل تک بات بات پر نوکروں کو ڈانٹ دیا کرتا تھا اور ذرا ذرا سی غلطیوں پر گھر کے ملازمین کی چھٹی کردیا کرتا تھا! اپنے یونٹ کے ہیرو کے آگے بے بس ہوگیا! ایک روز تو حد ہوگئی۔ درپن ایک خاص برانڈ کا سگریٹ پیا کرتے تھے جو کراچی میں صرف مخصوص شاپس پر ہی دستیاب تھا! شوٹنگ کراتے ہوئے درپن کا سگریٹ پیک ختم ہوگیا تو انہوں نے شرط عائد کردی کہ جب تک انہیں سگریٹ نہیں ملے گی، شوٹنگ نہیں ہوگی! مجبوراً یونٹ کے دو ورکرز کو روانہ کیا گیا تاکہ وہ درپن صاحب کا فیورٹ برانڈ ڈھونڈ کر لائیں! تب تک شوٹنگ رُکی رہی اور وحید مراد پیچ و تاب کھاتا رہا کہ اس کے سوا کوئی چارہ بھی تو نہ تھا! درپن کا دور تھا اور فلم کی شوٹنگ نصف سے زیادہ مکمل ہوچکی تھی۔اس دن ویدو نے فیصلہ کرلیا کہ اب وہ درپن کے ساتھ کام نہیں کرے گا بلکہ کسی بھی ہیرو کو نہیں لیا جائے گا۔ درپن کا رویہ ایک نئے ہیرو کے جنم کا باعث بنا اور وحید نے فلم آرٹس کے لئے باہر کے ہیروز پر انحصار یکسر ختم کردیا۔ اس کے بعد جب وحید نے اپنی نیکسٹ پروڈکشن پر ورک شروع کیا تو اس میں زیبا کے مقابل ہیرو کے لئے وحید مراد کا اپنا نام ہی سامنے آیا! ہیرا اور پتھر، کئی حوالوں سے وحید کے کیریئر میں خاص اہمیت رکھتی ہے! اس فلم سے وحید، زیبا پیئر ہٹ ہوا! پرویز ملک، سہیل رعنا، وحید مراد پر مشتمل کامیاب تکون بنی اور نہ صرف فلم آرٹس نے اس فلم سے بے حد کمایا اور مستحکم پوزیشن حاصل کی بلکہ وحید مراد کو بھی راتوں رات صف اول کا ہیرو بنادیا! ہیرا اور پتھر، باکس آفس پر زبردست ہٹ ثابت ہوئی اور گولڈن جوبلی اسٹیٹس حاصل کیا! یہ وہ دور تھا جب فلمیں صرف ایک سنیما پر ہی گولڈن اور ڈائمنڈ جوبلیاں منایا کرتی تھیں!

3043988_orig

ہیرا اور پتھر، کے لئے وحید نے اپنی کاروباری دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے جو ٹیم اکٹھی کی وہ اپنے اپنے شعبوں میں قابل اور باصلاحیت افراد پر مشتمل تھی! میوزک ڈپارٹمنٹ میں سہیل رعنا، نغمہ نگار مسرور انور، گلوکار احمد رشدی، اور ڈائریکشن کے لئے پرویز ملک کا انتخاب اپنے زمانے کی ایک بہترین ٹیم کے جنم کا باعث بنا! پرویز ملک ان دنوں نئے نئے امریکہ سے سنیما ٹو گرافی کا کورس کرکے آئے تھے اور کام کی تلاش میں تھے، وحید چونکہ پرویز ملک کے بچپن کے دوست تھے اور ان کے ٹیلنٹ سے بخوبی واقف تھے لہٰذا جب وحید نے ہیرا اور پتھر، پلان کی تو اس کے یونٹ میں اپنے دوست پرویز ملک، کو بھی شامل کرلیا جو فلم آرٹس کا ایسا حصہ بن گئے کہ پھر اس ٹیم نے ارمان (پلاٹینم جوبلی)، احسان (گولڈن جوبلی)، دوراہا (سلور جوبلی)، جہاں تم وہاں ہم (سلور جوبلی) جیسی خوب صورت فلمیں بنائیں! بدقسمتی سے جہاں تم وہاں ہم، کے بعد یہ ٹیم اختلافات کا شکار ہوکر ٹوٹ گئی اور اس کا ذمے دار وحید مراد کے رویئے کو ٹھہرایا گیا! اس کے اکثر ساتھیوں کو شکایت رہتی تھی کہ وحید دوستی، مروت یا لحاظ کے معاملے میں بھی کاروباری سوچ کو آگے رکھتا تھا اور بزنس کے معاملے میں اس قدر ٹھیٹ کاروباری تھا کہ ایک پیسہ کسی کا رکھتا تھا اور نہ ایک پائی اوپر کسی کو ادا کرنے کا روادار تھا! بزنس کا یہ اصول وحید کے دوستوں کو اس سے دور لے گیا۔حالانکہ یہ اس کی اعلیٰ ظرفی تھی کہ وہ کاروبار میں اپنے دوستوں سے کوئی راز چھپاتا نہیں تھا اور وحید کے دوست اس کے ذاتی کھاتوں تک کے بارے میں بھی سب کچھ جان جاتے تھے۔ دوستیوں کے معاملے میں محتاط رہنے اور بہت کم لوگوں کو اپنا ہم راز بنانے والے وحید کی اس سے زیادہ بدقسمتی کیا کہی جائے گی کہ اتنے قریبی ساتھیوں اور بچپن کے دوستوں نے بھی اس سے وفا نہ کی اور جب وحید کو ان کی ضرورت پڑی تو کوئی بھی اس کی دلجوئی کرنے والا پاس نہ تھا۔

380677_orig
اگرچہ وحید کا عروج ہیرا اور پتھر، سے شروع ہوچکا تھا لیکن جس فلم نے ویدو کو سپر اسٹارز کی صف میں لاکھڑا کیا وہ اس کے ذاتی ادارے کی پروڈکشن ارمان، تھی جسے پاکستانی سنیما کی فرسٹ پلاٹینم جوبلی کا اعزاز حاصل ہوا۔ 1966ءکی ریلیز اس فلم میں وحید اور زیبا کی رومانوی جوڑی نے اسکرین پر ایسی زبردست کیمسٹری شو کی کہ دیگر ہیروئنز کو اپنے فیوچر کی فکر لاحق ہونے لگی! اس فلم کے تمام گانے ہٹ ہوئے اور یہیں سے وحید کے گانے پکچرائز کرنے کا انداز پاپولر ہوا۔ ارمان، کے سپر ہٹ گانوں میں اکیلے نہ جانا، میرے خیالوں پہ چھائی ہے، اور جب پیار میں دو دل ملتے ہیں، اسٹریٹ پاپولیرٹی کے درجے کو پہنچے اور ہر نوجوان وحید مراد کے اسٹائل میں ماتھے پر پف گرائے نظر آنے لگا۔ارمان، سے فلم آرٹس نے اتنا کمایا کہ ادارہ مستحکم ہو گیا اور کامیابی کا ہما، وحید کے ماتھے پر سجا دکھائی دینے لگا۔ ارمان، کے بعد وحید، ایک کے بعد ایک ہٹ دیتا چلا گیا اور حسن طارق، اقبال یوسف، شباب کیرانوی، خلیل قیصر، ایم اے رشید، فرید احمد، ایس سلیمان، افتخار خان، نذرالسلام جیسے بڑے ڈائریکٹرز وحید کو اپنی فلموں میں کاسٹ کرکے اس کے کرزما کو کیش کراتے رہے! وحید کے لئے خصوصی کردار لکھے جانے لگے اور ہر فلم میں اس پر تین سے چار گانے بھی ضرور فلمائے جاتے کیونکہ اس شعبے میں اسے ماسٹر کا درجہ حاصل ہوگیا تھا۔ لولی وڈ کے سینئر ڈائریکٹرز اور موجودہ دور کے فلم میکرز کی متفقہ رائے ہے کہ وحید سے بہتر لپ سنگ کرنے والا کوئی اور ہیرو لولی وڈ میں نہیں آیا! اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ وحید کو میوزک کی سمجھ بوجھ تھی اور وہ موسیقی کی باریکیوں اور اس کی لطافت کے بارے میں اچھی طرح جانتا تھا! یہ سمجھ بوجھ اس پر فلمائے گانوں میں محسوس ہوتی ہے۔ کو کو کورینہ….، جب رات ڈھلی….، بھولی ہوئی ہوں داستاں….، سوچا تھا پیار نہ کریں گے….، میرے دل کی ہے آواز….، اور دل کو جلانا ہم نے چھوڑ دیا….، جیسے ورائٹی سونگز میں وحید اپنے انداز سے ان گانوں میں رنگ بھرتا نظر آتا ہے! کوریو گرافر کے اشاروں کو جس تیزی سے وحید پک کرتا تھا، شاید ہی کوئی اور ہیرو اس حوالے سے اس کا ثانی کہلا سکے!

764647_orig

ارمان، کے بعد وحید کی شہرت کی گڈی اونچی اُڑان اڑنے لگی تھی اور وہ دونوں فلمی مراکز (کراچی اور لاہور) میں اتنا مصروف ہو چکاتھا کہ ویدو کا ایک پاﺅں لاہور میں تو دوسرا کراچی میں ہوتا تھا! رومانٹک ہیرو کے طور پر شناخت بنانے کے ساتھ وحید نے چند فلموں میں غیر روایتی کردار بھی ادا کئے جن میں اسے پسند کیا گیا لیکن وحید کی جو ایک امیج بن چکی تھی، لوگ اسے ویسے ہی کرداروں میں دیکھنا چاہتے تھے۔ جوش، میں اس نے پہلی بار ایکشن رول پلے کیا جوکہ کامیاب تجربہ اس حوالے سے مانا جاسکتا ہے کہ باکس آفس پر یہ ملٹی اسٹارر گولڈن جوبلی ہٹ ثابت ہوئی! اس پیریڈ میں وحید کے ہم عصروں میں محمد علی، سنتوش، درپن اور سدھیر نمایاں تھے لیکن وحید نے ان سب کی باکس آفس ویلیو کو ڈسٹرب کئے بغیر اپنی الگ تھلگ جگہ بنائی! جوش، میں جنگجو ہیرو سدھیر کے مقابل وحید نے ایکشن کردار میں آکر اپنا سکہ یہاں بھی جما لیا لیکن پھر اس کے بعد اپنے روایتی اسٹائل میں ہی فلمیں کیں! عوامی کرداروں میں مقبولیت کے باعث وحید نے ماسز میں اپنی زبردست فین فولوئنگ پیدا کرلی اور ایسے کرداروں میں اپنی اداکاری سے ایسے گہرے اثرات چھوڑے کہ وہ کردار امر ہوکر رہ گئے۔ہیرا اور پتھر، میں گدھا گاڑی چلانے والے ہیرو کا کردار ہو یا پھر دولت اور دنیا، کے دہرے کردار میں محبوب اور اسمگلر کا روپ….، لیلیٰ مجنوں، کا سر پھرا عاشق، یا پھر وعدہ، کا معصوم بھولا بھالا پریمی….، شمع، میں ایک وفا شعار بیوی کا بگڑا ہوا شوہر، انسانیت، کا ڈاکٹر اور دیور بھابی، میں صبیحہ کے شرارتی دیور کا کردار جو کہانی کے اہم موڑ پرجذباتی نوعیت اختیار کرجاتا ہے! اس کردار نگاری کو سامنے رکھیں تو وحید کی مقبولیت اور کریز کے اسباب واضح ہوجاتے ہیں۔آڈیئنس دراصل فلم کے پردے پر وحید کے روپ میں اپنے آپ کو دیکھتے اور خوش ہوتے تھے۔ 70 کی دہائی کے وسط تک وحید کا عروج قائم رہا اور کوئی اسے اپنی پوزیشن سے نہ ہلا سکا لیکن جب ایک خاص لابی نے وحید کو انڈسٹری سے آﺅٹ کرنے کے منصوبے سے اس کے خلاف محاذ قائم کرلیا تو وحید کے لئے سروائیو کرنا مسئلہ بن گیا! دیور بھابی، دل میرا دھڑکن تیری، سال گرہ، تمہی ہو محبوب میرے، لاڈلا، عندلیب، نصیب اپنا اپنا، انجمن، ناگ منی، بہارو پھول برساﺅ، تم سلامت رہو، شمع اور شبانہ، جیسی ہٹس دینے کے بعد جب ویدو کی فلمیں فلاپ ہونا شروع ہوئیں تو فلاپس کی ایک لائن لگ گئی جس سے وحید کی مارکیٹ ویلیو اور ڈیمانڈ پر خاصا اثر پڑا لیکن اس سچویشن سے بہت پہلے ہی فلم انڈسٹری نے وحید مراد کے خود ساختہ زوال کو جواز بناکر اسے نظر انداز کرنا شروع کردیا تھا اور کہا جانے لگا کہ وحید کا دور لد گیا۔اس نازک گھڑی میں ویدو نے اپنی شکست کوتسلیم کرنے سے انکار کردیا۔حالات وحید کے اس حد تک مخالف آ چکے تھے کہ ویدو سے ناراض ہیروئنز کے ایک گروپ نے اس کے ساتھ کام کرنے سے انکار کردیا، ان میں وہ ہیروئنز بھی شامل تھیں جن کے ساتھ وحید کی جوڑی پاپولر تھی۔ ایسے وقت میں وحید کو بیک وقت کئی محاذوں پر لڑنا پڑا۔کئی ہیروئنز کو وحید کے ساتھ کام کرنے سے روکنے میں ایک مخصوص لابی کے علاوہ ان کے شوہروں یا قدر دانوں کا بھی بڑا ہاتھ تھا جو دراصل وحید کی چارمنگ پرسنالٹی سے خائف تھے!

1846790_orig

وحید کی سیکس اپیل ایسی تھی کہ وہ صنفِ مخالف کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا تھا، اپنے شوہر کی ان خوبیوںاورعادتوں سے سلمیٰ مراد بھی بخوبی واقف تھیں لہٰذا انڈسٹری میں گردش کرنے والی افواہوںکا اثر لیتے ہوئے میاں بیوی میں اکثران بن رہتی تھی! سلمیٰ کا اعتراض بھی اپنی جگہ درست تھا کہ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ،بلاوجہ ہی کوئی افواہ،خبرنہیںبن جایا کرتی۔دوسری جانب وحید مراد پر تو حسن پرستی کا بھوت سوار تھا کہ ایک مرد اور وہ بھی چاکلیٹی ہیروامیج کا حامل، بھلا سمندر میں رہ کر کس طرح ماحول سے بے نیاز رہ سکتا تھا مگر ساتھی ہیروئنز بھی کچھ کم نہ تھیں جو وحید کی بانہوں کے حصار میں آنے کے لئے فلمی سچویشن کے بہانے تلاش کرتی رہتی تھیں! جب وحید نے انہیں مستقل اپنانے سے انکارکردیاتوان میں سے چندنے اس کے خلاف محاذ بناکر اس کی بدنامی کا سامان کرنے کی کوشش کی جس سے وحید کی ڈومیسٹک لائف پر گہرے منفی اثرات ہوئے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ وحید کو بدنام کرنے کے لئے جب ہیروئنز کے ایک گروپ نے اس کے ساتھ کام کرنے سے انکار کیا تو اس کا جواز یہ پیش کیا کہ وہ اپنی ہیروئنز سے کلوز ہونے کی کوشش کرتا ہے اور غیر اخلاقی حرکتیں کرتا ہے! اسی بدنام امیج کے باعث محمد علی نے زیبا کو وحید کے ساتھ فلمیں سائن کرنے سے روک دیا! رانی نے بھی وحید کے ساتھ کام کرنے سے انکار کردیا، نشو کو اپنے شوہر انعام ربانی کی جانب سے پابندی کا سامنا کرنا پڑا تو روبن گھوش، وحید اختلافات کے باعث روبن نے بھی شبنم کو ویدو کے ساتھ پیئر نہ بنانے کا حکم صادر کردیا۔روبن، وحید تنازع اس وقت منظرِ عام پر آیا جب شبنم، وحید کی ذاتی پروڈکشن سمندر، میں کام کرنے کے لئے کراچی آئی تھی! اس فلم میں کہانی کی ڈیمانڈ کے مطابق کئی ایسے سین پکچرائز کئے گئے تھے جن پر روبن گھوش کو اعتراض تھا لیکن وحید نے انہیں ایڈٹ کرنے سے انکار کردیا! اختلافات میں شدت اس وقت آئی جب وحید نے سمندر، کا ایک متنازع پوسٹر پرنٹ کرواکر ڈسٹری بیوشن آفس میں لگوادیا جس میں شبنم کو سمندر کے کنارے بھیگتے ہوئے باریک کپڑوں میں دکھایا گیا تھا! روبن نے وحید کو اس پوسٹر کی نمائش کرنے سے روکنا چاہا اور شبنم کی تصاویر پر بھی اعتراض کیا جنہیں پکے کاروباری وحید نے بلاجواز قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا کیونکہ پوسٹر پر شائع ہونے والی تصویر، وحید کی چوائس تھی۔بہرحال اس فلم کے بعد روبن اور شبنم، وحید سے ناراض ہوگئے۔ کئی سالوں بعد شباب کیرانوی کو جب اپنی فلم کے مرکزی کرداروں کے لئے شبنم اور وحید جوڑی کی ضرورت پڑی تو انہوں نے روبن سے وحید کی ناراضی ختم کروائی اور اس طرح یہ جوڑی سہیلی، میں یکجا ہوسکی! شبنم کے ساتھ وحید نے آٹھ فلمیں کیں جن میں سے عندلیب، بندگی، نصیب اپنا اپنا، اور سہیلی، قابل ذکر ہیں۔ رانی کے ساتھ وحید نے سب سے زیادہ (20) فلمیں کیں جن میں دیور بھابی، دل میرا دھڑکن تیری، ناگ منی، انجمن، اور لیلیٰ مجنوں، قابل ذکر اور یادگار ہیں! زیبا کے ساتھ وحید کی جوڑی ہیرا اور پتھر، ارمان، کے علاوہ انسانیت، احسان، اور رشتہ ہے پیار کا، وغیرہ میں پسند کی گئی! وحید مراد نے اپنے ذاتی فلم ساز ادارے فلم آرٹس کے بینر تلے بطور پروڈیوسر بارہ فلمیں بنائیں جن میں ارمان، احسان، مستانہ ماہی، ماں بیٹا، نصیب اپنا اپنا، انسان بدلتا ہے، نے کامیابیاں حاصل کیں! جب سے دیکھا ہے تمہیں، سمندر، اشارہ، ماں بیٹا، جال، اور ہیرو، بھی پروڈیوس کیں! بطور مصنف وحید نے انسان بدلتا ہے، کا اسکرپٹ اور آخری فلم ہیرو، کے مکالمے تحریر کئے۔ ایک فلم اشارہ، کی ڈائریکشن بھی دی۔ اس کے علاوہ ایک فلم میں گلوکاری کا تجربہ بھی کیا۔

5296969_orig
وحید کے 23 سالہ کیریئر میں بطور پروڈیوسر دو فلموں (جن میں وحید نے کام نہیں کیا) کے علاوہ وحید مراد کی بطور ایکٹر 128 فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں تین فلمیں ایسی ہیں جن میں وحید نے گیسٹ اپیئرنس دی۔ مرکزی کردار والی 125 فلموں میں وحید کی ہیروئنز کی کل تعداد 25 رہی! ان ریلیزز میں ایک ڈائمنڈ جوبلی (شبانہ) 3، پلاٹینم جوبلی، 28 گولڈن جوبلی اور 44 سلور جوبلی فلمیں شامل ہیں۔ پنجابی فلموں کا دور آیا تو وحید نے ذاتی پروڈکشن مستانہ ماہی، لانچ کردی جس کے ڈائریکٹر افتخار خان، تھے! خوش قسمتی سے وحید کو پنجابی فلموں میں بھی کامیابی ملی لیکن یہ عزت و شہرت انڈسٹری کے نام نہاد ناخداﺅں سے ہضم نہ ہوسکی اور ویدو کو ایک فلاپ ایکٹر کہہ کر low پروفائل رکھا جانے لگا۔ کل تک جو پروڈیوسرز ہمیشہ وحید کے نادہندہ ہوا کرتے تھے اور اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر بقایا جات معاف کروالیا کرتے تھے، وحید کا ڈاﺅن فال پیریڈ آیا تو اس کے خلاف سرگوشیوںاورسازشوں میں مصروف ہوگئے۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ جب وحید مراد کو اپنی انا کا گلا گھونٹ کر فلم میکرز سے کام مانگنا پڑا اور جواب میں اسے یہ طعنے سننے کو ملے کہ ”وحید مراد کا عروج اب ختم ہوچکا ہے، اس کی ہیروورشپ دم توڑ چکی ہے!“ وحید کے لئے یہ سب طعنے ناقابل برداشت تھے، وہ تو اپنے تصورات کی جس دنیا پر حکمرانی کررہا تھا، اس میں وحید خود کو ہیرو کے علاوہ کسی اور نچلے درجے پر دیکھنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ بس یہی خواب، یہی تصور اور زندگی کی حقیقتوں سے نظریں چرانے، منہ پھیرنے والی کمزوری نے وحید کو اندر ہی اندر تنہا کردیا اور اپنے دورِ عروج کو یاد کر کرکے وہ خود کو اندر سے کھوکھلا کرتا رہا! جب اچانک سے وحید پر افتاد پڑی تو وہ ڈگمگایا اور پھر سنبھل نہیں پایا! عروج کی سہانی یادیں، ڈراﺅنے خواب بن کر اسے راتوں کو بے چین کردیتی تھیں اور وہ کئی کئی راتیں سو نہیں پاتا تھا! بے خوابی کے مرض نے وحید کو کئی اعصابی اور مہلک بیماریوں میں مبتلا کردیا تھا! تشخیص پر پتہ چلا کہ وہ السر کا مریض بن چکا ہے اور یہ مہلک مرض اتنی بھیانک اسٹیج پر ہے کہ اس کے مضمر اثرات سے وحید کو بچانا ممکن نہ رہا تھا! وحید کے جسم میں معمولی سی لغزش بھی آگئی تھی جس سے اس کے دونوں ہاتھ کانپنے لگتے تھے، جب وہ کرسی پر بیٹھتا تو اس کے بازوﺅں کو مضبوطی سے جکڑ لیتا تاکہ سامنے والے کو اس کی اعصابی کمزوری کا اندازہ نہ ہوسکے لیکن جو لوگ ایک مضبوط اور خود اعتماد ویدو سے اچھی طرح واقف تھے وہ ان دنوں اس کے اندر ہونے والی ٹوٹ پھوٹ کو محسوس کرسکتے تھے! آخری وقت تک وحید کے لہجے میں وہ اعتماد اور حوصلہ موجود تھا جس کے لئے ویدو مشہور رہا تھا! وہ اپنے کم بیک کی باتیں اور دعوے اسی خود اعتمادی سے کرتا جو اعتماد اسے ارمان، ہیرا اور پتھر، کے دور میں حاصل تھا لیکن یہ سب دکھاوا تھا! وحید جانتا تھا کہ اس کے پاﺅں اکھڑ چکے ہیں اور اب اس کی واپسی ممکن نہیں! اپنے آخری انٹرویو میں بھی وہ کہہ رہا تھا ”میں واپس آﺅں گا، جلد ہی میری ڈیمانڈ بحال ہوجائے گی، پھر میں دیکھتا ہوں کہ یہ لوگ مجھے کیسے اپنی فلموں میں نہیں لیتے!“

4137607_orig
جن دنوں وحید، فلم میکرز کے رویئے سے قطعی مایوس ہوچکا تھا اور اس کے پاس کام نہیں تھا! اپنے رائیول فرینڈ شاہد کے ساتھ مل کر اس نے چند پروجیکٹس بھی ڈسکس کئے جن پر دونوں سرمایہ لگارہے تھے لیکن شاہد کے نان پروفیشنل اور غیر ذمے دارانہ رویئے نے وحید کو مالی طور پر بے حد نقصان پہنچایا اور ان کی دو فلمیں جن پر وحید اور شاہد نے مشترکہ سرمایہ کاری کی تھی، نامکمل رہ گئیں! وحید جو پہلے ہی خاصا ہرٹ تھا، شاہد کے ساتھ کاروباری معاملات کی الجھنوں سے مزید نفسیاتی مسائل کا شکار ہوگیا۔

8554802_orig80ءکی دہائی کا آغاز وحید کے لئے مایوسیوں کی انتہا تھا! اوپر تلے پیش آنے والے حادثات نے وحید مراد کی زندگی کو ایک نیا رخ دے دیا۔ تقدیر اس کے ساتھ جو کھیل، کھیل رہی تھی، وحید کے لئے یہ سب حالات غیر متوقع تھے۔ 79ءکی ایک چمکتی دوپہر لاہور میں فلم اسٹار کرکٹ کلب کی طرف سے دوستانہ میچ کھیلتے ہوئے ایک بیٹسمین کے بلے سے نکلنے والی تیز رفتار گیند وحید کی ہتھیلی کو چیرتی ہوئی نکل گئی، زخم اتنا گہرا تھا کہ وحید کی ہتھیلی پر سات ٹانکے لگے، اس حادثے کے نتیجے میں وحید کئی ہفتے تک کسی فلم کی شوٹنگ میں حصہ نہ لے سکا۔ 5 ستمبر 80ءکو وحید شدید بیماری کے سبب بھی کئی دنوں تک اسٹوڈیوز کی لائف اور شوٹنگز سے دور ہوگیا۔ بیماری کا ایک اور شدید حملہ 6 جولائی 82ءکو بھی ہوا جس میں وہ بُری طرح نڈھال اور کمزور ہوگیا۔ ڈاکٹروں نے تشخیص کی تو السر کا مرض سامنے آیا۔ 83ءمیںوحید کے معدے کا ایک خطرناک آپریشن ہوا ۔اس آپریشن کے دوران جب خون کی فراہمی کے لئے اخبارات میں تشہیر کی گئی تو ہزاروں مداح وحید کو خون دینے کے لئے جمع ہوگئے ۔اس واقع سے فلم میکرز کو وحید کی مقبولیت کا درست اندازہ ہوا جو وحید کو فلاپ ہیروکہہ کر مسترد کرچکے تھے۔

8861277_orig

27 ستمبر 83ءکو پیش آنے والا حادثہ دراصل وحید کے ارادوں کو متزلزل کرنے کے لئے آخری حملہ ثابت ہوا! ایک کار ایکسیڈنٹ میں وحید کے ماتھے پر گہرا زخم آیا جو سر، اسٹیئرنگ سے ٹکرانے کے باعث شدید چوٹ کا نتیجہ تھا۔ زخم تو بھر گیا لیکن نشان رہ گیا، جسے چھپانے کے لئے وحید بالوں کی پف بناکر اسے ماتھے پر پھیلائے رکھتا۔ ان دنوں وحید کی ذاتی فلم ہیرو، کی عکس بندی جاری تھی جو اس کی آخری پروڈکشن ثابت ہوئی۔ وحید کی وفات کے وقت یہ فلم نامکمل تھی جسے اقبال یوسف نے جیسے تیسے مکمل کرکے ریلیز کے قابل بنایا۔ اس فلم میں وحید کا کردار اور ٹائٹل وحید کی اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ اس نے آخری وقت تک بھی اپنی ناکامی یا شکست کو قبول نہیں کیا تھا!۔وہ ہیرو تھا اور ہیرو کی حیثیت سے ہی رخصت ہوا۔ آخری کار ایکسٹیڈنٹ نے وحید کو جسمانی طور پر تو اتنا ڈسٹرب نہیں کیا لیکن آنکھ اور ماتھے پر آنے والے زخم کے نشانات نے اس کا اعصابی نظام بری طرح متاثر کیا اور وحید نفسیاتی طور پر اس ایکسیڈنٹ کے اثرات میں آگیا۔ کل تک خود کو لیڈی کِلر اور چاکلیٹی ہیرو سمجھنے والے کے لئے یہ برداشت کرنا مشکل تھا کہ اب وہ لڑکیوں کا چہیتا نہیں رہا تھا۔ وحید کی خوب صورتی پر داغ لگ چکا تھا اور یہی احساس آہستہ آہستہ اسے چاٹنے لگا تھا۔ ان دنوں وحید کی بیگم سلمیٰ مراد اپنی بیٹی عالیہ کے ساتھ امریکہ میں تھیں۔ سلمیٰ سے وحید کی شادی 17 ستمبر 1964ءکو ہوئی تھی اور شادی کی یہ پروقار تقریب طارق روڈ پر واقع وحید کی کوٹھی میں سجائی گئی تھی جہاں ندیم نے گانے سنا کر حاضرین کو محظوظ کیا تھا! اس وقت ندیم اداکار نہیں بنے تھے۔ عالیہ کی پیدائش شادی کے پانچ سال بعد 23 دسمبر 69ءکو ہوئی تھی جبکہ بیٹا عادل مراد 13 نومبر 1976ءکو پیدا ہوا۔ اپنے بچوں سے وحید بے پناہ پیار کرتا تھا اور اس نے اپنی اولادوں کے لئے بھی وہی سب کیا جو نثار مراد نے اپنے بیٹے کے لئے کرتے ہوئے دنیا کی ہر آسائش اس کے قدموں میں ڈال دی تھی۔

8687119_orig

مرنے سے 10 دن قبل وحید نے اپنے بیٹے عادل کی سال گرہ اپنی منہ بولی بہن ممتاز ایوب (انیتا ایوب، عنبر ایوب کی والدہ) کے گھر پر منائی، اس وقت وحید کا کوئی اپنا اس کے ساتھ نہ تھا۔ ماں، لاہور میں تھیں اور والد نثار مراد کا ایک سال قبل (82ءمیں) انتقال ہوچکا تھا۔ اس قیامت کی گھڑی میں وحید کی دل جوئی کرنے والی اس کی منہ بولی بہن کرنل ایوب کی بیگم ممتاز ہی تھیں جن کے گھر وحید نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے۔ 22 نومبر کی شب، وحید رات گئے تک گھر والوں سے گپ شپ کرتا رہا اور اس کے بعد اپنے کمرے میں سونے کے لئے چلا گیا۔ وحید کا معمول تھا کہ وہ بیڈ پر جانے کے دو ڈھائی گھنٹے بعد سوتا تھا اور اس دوران میوزک یا کتابوں سے دل بہلاتا رہتا تھا۔ پان کھانا بھی اس کا مرغوب شوق تھا اور یہ سارے معمولات اس رات بھی وحید نے پورے کئے لیکن جب صبح معمول کے مطابق 10 بجے گھر کی ملازمہ وحید کو جگانے کے لئے گئی تو دروازہ اندر سے نہ کھلا! مکینوں کی تشویش فطری تھی لہٰذا کمرے کا دروازہ توڑ دیا گیا۔ دروازہ کھلتے ہی جو منظر ان کی آنکھوں نے دیکھا، اس کے کرب اور اذیت سے وہی واقف ہیں جو اس وقت وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ وحید بستر سے گرے ہوئے، فرش پر اوندھے منہ پڑا تھا اور نہ جانے کب سے اس حالت میں تھا۔ کرنل ایوب نے ڈاکٹر کو فون کیا جس نے چیک اپ کے بعد وحید کی موت کی تصدیق کردی۔ رپورٹس کے مطابق وحید کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی تھی اور یہ حملہ صبح پانچ سے چھے بجے کے دوران ہوا تھا۔غالباً وحید پان کھاتے ہوئے سو گیا تھا کیونکہ اس کے حلق میں چھالیہ اور پان کے لوازمات موجود تھے۔وحید کے انتقال کی اطلاع جونہی باہر آئی،پورے ملک میں صف ماتم بچھ گئی۔ دوست دشمن سبھی مایوس، پرملال، اداس اور غمگین ہوگئے۔وحید کی والدہ کی حالت غیر تھی، ان کی خواہش کے مطابق میت لاہور لے جانے کا بندوبست کردیا گیا، یہاں تک کہ کراچی میں موجود وحید کے دوستوں، مداحوں اور پریس تک کو اس کی موت سے بے خبر رکھا گیا۔ انتہائی خاموشی اور رازداری کے ساتھ میت ایک تابوت میں بند کرکے چند لوگوں کی موجودگی میں لاہور کے لئے PIAکی پرواز سے روانہ کردی گئی جہاں وحید کے چچا سلیم مراد، نے چند انتہائی قریبی ساتھیوں اور انڈسٹری کے گنے چنے لوگوں کے ساتھ میت وصول کی۔

5552406_orig

کراچی سے صرف عادل مراد اور بیگم ممتاز ایوب ہی وحید کے قریبی رشتے داروں میں سے ساتھ تھے۔ 24 نومبر 83ءکو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں وحید کا جنازہ اٹھا تو ہر آنکھ اشک بار تھی۔ وحید کی کوٹھی واقع 72-G گلبرگ تھری کے باہر ہزاروں پرستاروں نے جنازہ اٹھنے سے پہلے ہی ڈیرے ڈال دیئے تھے جو دور دراز شہروں سے آئے ہوئے تھے۔ وحید کی آخری آرام گاہ گھر کے عقب میں واقع قبرستان میں والد نثار مراد (مرحوم) کے پہلو میں تجویز کی گئی جہاں لاکھوں دلوں کی دھڑکن ویدو کو دفنا دیا گیا۔ اس جنازے میں موجود وحید کے دوستوں کوکبھی وحید کی جانب سے مذاق میں کہی وہ بات یقینا یاد آئی ہوگی جب اس نے قبرستان کے قریب رہائش اختیار کرنے پر دوستوں کے استفسار پر جواب دیا تھا! ”میں نہیں چاہتا کہ مرنے کے بعد اپنے دوستوں پر بوجھ بنوں، اسی لئے قبرستان کے قریب رہائش رکھی ہے!“
photo0104وحید کے مرنے کے بعد جائیداد کے مسئلوں میں الجھ کر سلمیٰ مرادنے کافی تکلیفیں اٹھائیں لیکن اپنے بچوں کی تربیت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔عالیہ کی شادی وحید کے انتقال کے بعد بڑی دھوم دھام سے 12 فروری 87ءکو سید سجاد حسین شاہ (کمپیوٹر بزنس سے وابستہ تھے، اب ایک اخباری ادارے اور چینل کے چیف ایگزیکٹو ہیں) سے ہوئی۔عالیہ مراد کے تین بچے ہیں اور میاں بیوی کی ازدواجی زندگی مسرتوں سے بھرپور گزر رہی ہے۔چاکلیٹی ہیرو کا جاں نشین عادل مراد، امریکہ میں پلا بڑھا ہے اور وہیں سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ہے۔ہیرو، اور شادی میرے شوہر کی، میں بطورچائلڈ اسٹار کام کرنے والا یہ اسٹارسن، ایک فلم راجہ صاحب، میں سولو ہیرو آچکا ہے مگر کامیاب نہیں ہوپایا۔ نیشنل بیڈ منٹن چیمپئن مریم سے شادی کے بعد عادل ان دنوں ذیادہ تر وقت امریکہ میں ہی رہتا ہے اورٹی وی پروڈکشنزکے ساتھ ساتھ ایکٹنگ بھی کر رہا ہے۔

اس تحریر کے مصنف معروف صحافی عمر خطاب خان ہیں۔یہ تحریر ان کی مقبول عام تصنیف ”فن کار کہانیاں“ سے لی گئی ہے۔جس کے پبلشر نثار حسین(رکتاب پبلی کیشن)ہیں۔
8777712_orig 9648653_orig 6245633_orig 4928690_orig 1672518_orig 577461_orig

About author

metrolive

The author and admin of this site is Umar Khitab Khan. Have 20 years experience in media industry, he wrote many scripts for TV, write ups and features for magazines and news papers. A book based on biographies of celebrities also on his credit. His magazine Monthly Metro Live very popular in intellectuals but also in masses, He is affiliated with many social and professional organizations like Arts Council of Pakistan and Karachi Union of Journalists. He is also a film critic and member of SBFC (Sindh Board of Film Censors).

No comments

You may interested