fbpx 

Review: Ajay Devgan’s RAID

0
Raid-1

کہانی ،ڈائریکشن اور ٹریٹمنٹ میں جھول اور کمزور میوزک کے باوجود اجے دیوگن کی نئی مووی ریڈ خالصتاً اجے دیوگن اور سورابھ شکلا اور سپورٹنگ کاسٹ کی اداکاری کی وجہ سے یاد رکھی جائے گی۔

14-4

 

فلم کی کہانی کو اگر ایک جملے میں بتانا ہو تو ”گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے“۔اب یہ گھر کا بھیدی کون ہوتا ہے؟ کیوں ہوتا ہے؟ وہ کیسے کام کرتا ہے اور وہ پکڑا جاتا ہے یا نہیں ؟یہ جاننے کیلئے فلم دیکھنی ضروری ہے۔فلم 1981میں کیے گئے انکم ٹیکس چھاپے کی حقیقی کہانی پر بنائی گئی ہے جو دو سے تین دن میں ختم ہوتا ہے۔ اس چھاپے میں انکم ٹیکس کی ٹیم نے 420کروڑ مالیت کی کرنسی اور سونا برآمد کیا تھا۔اُس وقت بھارت میں اندرا گاندھی وزیر اعظم تھی جن کی جھلک بھی فلم میں دکھائی گئی۔اُس وقت کے بھارتی 420کروڑ روپے کتنے تھے اور ان کو ڈھونڈنے اور پھر گننے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے یہ ایک الگ” گھن چکر“ ہے۔

81218-gkqnemgctr-1517899224

 

فلم میں سورابھ کی ماں کا کردار جہاں جہاں آتا ہے وہاں سب کے دل جیت جاتا ہے۔کھانے کی ٹیبل پر جلیبی کھانے کا سین ہو یا پھر اپنی بیماری پر بیٹوں کے لاپرواہی کی شکایت ۔بہو کے انداز پر شک ہو یا معصومیت میں اپنے ہی بیٹوں کے پیر پر کلہاڑی مارنا۔یہ سب سین اور بے ساختہ مکالمے دیکھنے والوں کو مسکرانے اور اپنے یادوں میں ساتھ رکھنے پر مجبور کردیتے ہیں۔

Ajay-Devgn-Raid-trailer

  سورابھ شکلا نے بینڈٹ کوئن سے لیکر اب تک ستیہ،کلکتہ میل،برفی اور جولی ایل ایل بی سمیت کئی فلموں میں یادگار کردار کیے لیکن فلم ریڈ میں ان کا ولن کا کردار اب تک ان کے کیریر کا سب سے بڑا کردار ہے۔ فلم میں کئی جگہ وہ اجے دیوگن جیسے اداکار پر بھی بھاری نظر آئے۔

فلم کی کہانی لکھنو شہر کی ہے جہاں ایک بہت ہی ایماندار انکم ٹیکس افسر کسی مخبر سے اطلاع ملنے کے بعد 420 کروڑ کا کالا دھن بر آمد کرنے لکھنو کے ہی نہیں پوری یو پی کے طاقتور ترین کرپٹ آدمی کے گھر پر چھاپہ مارتا ہے۔اس چھاپے کے دوران اسے کیا دقت اور مشکلات آتی ہیں پہلے ناکامی اور پھر ایک کے بعد ایک ملنے والی کامیابی کے بعد آخر میں اس کی زندگی کیسے خطرے میں پڑ جاتی ہے اور وہ کیسے اس خطرے سے نکل جاتا ہے یہ جاننے کیلئے بھی فلم دیکھنا ضروری ہے۔

اجے دیوگن کا یہ کردار سنگھم کے غصے والے پولیس والے کی طرح نہیں بلکہ”دریشھم“ کے کردار کے قریب ہے جو کمزور ہو کر بھی اپنے دماغ سے سب مشکلوں پر قابو پالیتا ہے۔فلم کے ڈائریکٹر عامر اور نو ون کلڈ جیسیکا جیسی” پاورفل سینما“ بنانے والے راج کمار گپتا ہیں جن کی آخری فلم پانچ سال پہلے ریلیز ہونے والی گھن چکر تھی۔

raid-movie-review-quicker-0001

فلم اسی کی دہائی اور ٹیکس چھاپوں کی کہانی ہونے کے باوجود اکشے کمار کی اسپیشل چھبیس جیسی نہیں ۔فلم کی کہانی اور سسپنس دونوں اکشے کی فلم سے کافی کمزور ہیں۔فلم دیکھنے کے بعد آپ کے ذہن اور دل میں کئی سوالات جنم لے لیتے ہیں مثلاً قائدے قانون پر چلنے والا شخص دل کی کیسے سن سکتا ہے؟اتنی ٹینشن میں کوئی بیگم کھانا لیکر چھاپے کی جگہ کیسے پہنچ سکتی ہے؟اسی وقت انسپیکٹر اجے کو اندر بلاتا ہے ضروری کام سے لیکن اس وقت رومانس اور فلیشن بیک کا گانا شروع ہوجاتا ہے؟بیوی کو کچھ نہ بتانے والا ایماندار سرکاری افسر قانون کیخلاف ولن کو باہر جانے کی اجازت کیوں دیتا ہے؟ بیوی پر حملے کی خبر سن کر جب تاوٴ جی تاوٴ دکھاتے ہیں اس وقت فلم دیکھنے والے سب فلم بینوں کو ہیرو سے ایک تھپڑ کی خواہش ہوتی ہے لیکن یہاں بھی کچھ نہیں ہوتا؟گھر کے بھیدی کا پس منظر بھی موثر انداز میں پیش کیا گیا نہ اسے سات پردوں میں چھپا کر رکھا گیا؟گھر کے بھیدی کے سب سے قریبی شخص کے کردار کو بھی ”اسٹیبلیش“ نہیں کیا گیا۔ وزیر اعظم کے حکم کے باوجود ایکشن اتنا تاخیر سے کیوں ہوتا ہے؟ بھارتی جماعت کانگریس کو مثبت انداز میں پیش کیا گیا یا منفی انداز میں یہ فیصلہ بھی فلم بین کیلئے مشکل ہی رہتا ہے؟اپنی نہیں لیکن اپنوں کی جان بچانے کیلئے بھی ہیر و ولن کے خاندان پر بندوق کیوں نہیں اٹھاتا؟

raid-review-facebook_700x400_71521190059

فلم کیونکہ موبائل اور سوشل میڈیا سے دور سے پہلے کی ہے تو فلم میں سیٹی بجاتا پریشر ککر، ہاتھ کی اور دیوار کی گھڑی، گاڑیاں،کلینڈر، فائلز اورٹیلے فون سیٹ کا فلیور اپنا رنگ دکھاتا ہے۔اجے دیوگن اور سورابھ شکلا کے مکالمے تو زوردار ہے ہیں لیکن اجے کے ساتھی للن کا سونے میں تلنے والا مکالمہ بھی بڑا بھاری تھا۔ فلم میں الیانا ہوتی یا نہیں ہوتی یا کوئی اور اداکارہ ہوتی فلم پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ فلم اجے دیوگن کے فینز کیلئے بنی ہے ان پرستاروں کیلئے جو اجے دیوگن کے ایکشن اور اسٹنٹ کے نہیں ان کی اداکاری کے دیوانے ہیں۔

جاتے جاتے وہ جو فلم دیکھ چکے ہیں اور ابھی تک کروڑوں کی چار سو بیسی میں الجھے ہوئے ہیں ان کیلئے یہ معلومات کہ اگر مان لیا جائے کہ تاوٴ جی کے گھر سے ملنے والا صرف سونا 200کروڑ مالیت کا تھا تو اُس سونے کی قیمت آج کے حساب سے 40ارب روپے بنتی ہے اور جو سوچتے ہیں اتنا پیسہ گھروں میں کون چھپائے گا ان کیلئے عرض ہے کہ دو سال پہلے بلوچستان میں ایک چھاپے میں نیب نے کروڑوں روپے کی کرنسی ایک ہی گھر سے بر آمد کی تھی۔

Reviewed by: Rehan Ahmed

About author

metrolive

The author and admin of this site is Umar Khitab Khan. Have 20 years experience in media industry, he wrote many scripts for TV, write ups and features for magazines and news papers. A book based on biographies of celebrities also on his credit. His magazine Monthly Metro Live very popular in intellectuals but also in masses, He is affiliated with many social and professional organizations like Arts Council of Pakistan and Karachi Union of Journalists. He is also a film critic and member of SBFC (Sindh Board of Film Censors).

No comments

You may interested