fbpx 

First National Consultation Meeting on Pakistan Film Policy 2017

0
18222426_10211350212484583_1476823219226378797_n

کہ خوشی سے مرنہ جاتے اگر اعتبار ہوتا

عمر خطاب خان

کہنے کو تو ”پاکستان فلم انڈسٹری“ مگرتاریخ گواہ ہے کہ پچھلی چھے سات دہائیوں میں کسی بھی حکومت نے اس انڈسٹری کو انڈسٹری سمجھا نہ ٹریڈ اور صنعت والی مراعات کے قابل گردانا۔ فلم انڈسٹری اور فلم والے ،حکمرانوں کی نظر میں میراثی اور بھانڈ ہی تصور کیے گئے اور ان کے ساتھ سلوک بھی ویسا ہی روا رکھا گیا۔ اس نام نہاد انڈسٹری کی زبوں حالی کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی بہبود کا کسی حکمران نے سوچا بھی تو پہلی بار ضیاءالحق مرحوم نے جنہوں نے پوری فلم انڈسٹری کو ایوان ِ صدر میں طلب کرلیالیکن بقول مصطفی قریشی انہوں نے بھی فلمی صنعت کے مسائل سننے کی بجائےاُلٹا فلم والوں کی سرزنش کی کہ آپ لوگ کیا اوٹ پٹانگ فلمیں بنارہے ہیں؟ اس گرینڈ فلمی بیٹھک کا نتیجہ فوٹوسیشن سے آگے نہ نکل سکا اور فلم والے اسی پر خوش تھے کہ اس وقت کے جنگی ہیرو سے ملاقات،مصافحہ اور فوٹو سیشن کا موقع تو ملا۔ اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے بھی گاہے بگاہے ایسے فوٹو سیشنز کا اہتمام کیا جن کا مقصد ”سیاسی“شہرت سے زیادہ نہ تھا اور فلم والے بھی بیچارے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا سمجھ کر ایسی بیٹھکوں،کانفرنسز ،سیمینارز میں جاتے رہے کہ کریں بھی تو کیا کریں؟ اور پھر نواز شریف حکومت نے بھی چار سال پورے کرلیے تو شاہ کے وفاداروں کو خیال آیا کہ ایک انڈسٹری ، فلم کے نام پر بھی وجود رکھتی ہے۔ لہٰذا کرپٹ بیورو کریسی نے ایک زبردست پلان تیار کرکے بھولی بھالی وزیر اطلاعات کے حوالے کردیا اوروزیر موصوف اسے لے کر کراچی کے فلم میکرز،ایکٹرز،سنیما اونرز اور اسٹیک ہولڈرز سے ملنے گورنر ہاوس پہنچیں۔ واضح رہے کہ کراچی فلم انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈرز سے یہ ملاقات پچھلے ماہ طے تھی مگر عین ایک روز قبل وزیر محترمہ کی اچانک ”وفاقی “مصروفیات کے سبب وہ میٹنگ ملتوی کردی گئی۔اس امر سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ فلم انڈسٹری کو حکومت نے کتنی سنجیدگی سے لیا ہے۔خدا خدا کرکے ہنگامی بنیادوں پر فلم پالیسی 2017،کے عنوان سے اس بیٹھک کا گورنر ہاوس میں انعقاد کرلیا گیا مگر وہاں جو غیر سنجیدہ منظر دیکھنے میں آیا،اس کے بعد تو پاکستان میں فلم انڈسٹری کے وجود پر تعزیت ہی کی جاسکتی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد جبکہ صوبائی سینسر بورڈز فعال کرداراداکررہے ہیں،اس بیٹھک میں اسلام آباد کے چیئر مین سینسربورڈ کس حیثیت میں موجود تھے؟ اور اگر موجود بھی تھے تو کیا فلم والے ان کی ”ایمان داری اور دیانت داری“کی داستانوں سے واقف نہیں ہیں؟ کیا ایسا وفاقی نمائندہ جس کا اپنا کردار مشکوک ہو ،وہ فلم انڈسٹری کے مسائل سننے اور انہیں حل کرنے کا مجاز ہوسکتا ہے؟
دوسری جانب اسٹیج پر خود ایک زخم خوردہ فلم میکر جمال شاہ موجود تھے۔ وزیر مملکت مریم اورنگزیب اور وفاق کی علامت گورنر سندھ محمد زبیربھی اسٹیج کی رونق بڑھانے کا سبب تھے۔ ہوسٹنگ کی ذمے داری نصرت حارث نبھا رہی تھیں۔ حاضرین میں شیخ امجد رشید، ندیم مانڈوی والا، ستیش چند آنند،جرجیس سیجا، ہمایوں سعید، ڈائریکٹر ندیم بیگ، جامی محمود،وجاہت رؤف،سنیما آنر چوہدری فرخ،سعد بیگ ہی قابل ذکر فلمی شخصیات تھیں۔ ان کے علاوہ چند فلمی صحافی، بھرپور الیکٹرونک میڈیا اور ان گنت یونیورسٹی اسٹوڈنٹس کی موجودگی میں ایسے لگ رہا تھا گویا گورنر ہاؤس میں کوئی فلمی ورک شاپ کا اہتمام کیا گیا ہے۔ فلم پالیسی بن رہی ہے تواس میں اسٹوڈنٹس کی رائے سے زیادہ اہمیت ان لوگوں کی رائے کو دی جانی چاہیے جن کا سب کچھ اسٹیک پر لگا ہوا ہے اور جنہوں نے اس انڈسٹری کو یہاں تک لانے میں اپنا خون پسینہ بہایا ہے۔
کانفرنس کا باقاعدہ آغاز ہوا تو وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات نے بے حد مہارت سے بنائی گئی پریزنٹیشن آڈیئنس کوبریف کی جس میں پاکستان کی پہلی فلم پالیسی کے اہم نکات پر روشنی ڈالی گئی۔ کوئی شک نہیں کہ یہ پریزنٹیشن بہت اچھی تھی لیکن اس میں لولی پاپ جیسے کلرز کا استعمال کیا گیا تھا۔
کوئی ایک گھنٹہ یہ سیشن جاری رہا ،جس کے بعد ٹی بریک انا ؤنس کردیا گیا۔ شیڈول کے مطابق اگلے دو گھنٹے میں فلم والوں سے اس مجوزہ حکومتی پالیسی پر تجاویز لی جانی تھیں لیکن چائے کے وقفے کے بعد جب شرکاء واپس اپنی نشستوں پر آئے تو اچانک میزبان نصرت حارث نے گھبرائے ہوئے لہجے میں اناؤنس کیا کہ اگلا سیشن ناگزیر وجوہات کی بنا پر ملتوی کردیا گیا ہے۔ نصرت کے لہجے میں اس قدر عجلت اور پریشانی تھی کہ لمحے بھر کو لگا جیسے حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا ہے اور جمہوریت کی گاڑی پٹری سے اُتر گئی ہے۔ اس عجلت میں پروگرام ختم کیے جانے کے علاوہ بھی کوئی دوسرا مہذب طریقہ اختیار کیا جاسکتا تھا۔
کانفرنس کے اگلے روز فلم انڈسٹری کے اسٹیک ہولڈر ز کی تعداد پہلے روز کے مقابلے میں بھی کم رہ گئی۔ جن لوگوں سے میری بات ہوئی وہ اس سارے سلسلے سے ہی کافی مایوس نظر آئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ انتہائی عجلت میں منعقد کی جانے والی اس کانفرنس میں پاکستان فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی نمائندگی تھی اور نا ہی ایسوسی ایشن کے چیئرمین سید نور کو اس کانفرنس کا علم تھا۔ جبکہ دعوت نامے پر ایسوسی ایشن کا نام موجود تھا۔اسی طرح انڈسٹری کے کئی بڑے نام کراچی میں ہونے کے باوجود شرکت سے محروم رہے کیونکہ انہیں مدعو ہی نہیں کیا گیا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ ساری کارروائی محض ہمایوں سعید کے ساتھ فوٹو سیشن کے لیے رچی گئی تھی کیونکہ خود مریم اورنگزیب صاحبہ اور گورنر صاحب نے فرمایا کہ وہ ہمایوں سعید کو پسند کرتے ہیں۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر حکومت کو اچانک فلم پالیسی بنانے کی کیا سوجھی۔ ایک حکومت جس کے چل چلاؤ کا ٹائم ہے،جو اپنی چار سالہ مدت پوری کرچکی ہے اور اس عرصے میں اس نے ہر وہ ظلم و ستم اس انڈسٹری پر ڈھایا ہے جس کی مثال بھی نہیں دی جاسکتی۔ پھر اچانک فلم پالیسی بنانے کا ڈرامہ کیوں؟ کیا یہ سب فن کار برادری اور فلم والوں کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش ہے ؟ کہیں یہ اُن چینل مالکان کو خوش کرنے اور دانہ ڈالنے کی کوشش تو نہیں جو فلم بزنس میں ہیں؟
اس فلم پالیسی میں ریجنل سنیما کی بات کیوں نہیں کی گئی؟ ٹیکس مراعات کی بات کیوں نہیں ہوئی؟انڈین فلموں پر انحصار محدود کرنے کا سوال کیوں نہیں اٹھایا گیا؟ ایسے کئی سوالات ہیں جن کا جواب کبھی نہیں آئے گا کیونکہ حکومتوں کی دلچسپی صرف فنانس سے جڑے معاملات سے ہوتی ہے۔ پھر ایک فلم فنانس فنڈ بنایا جائے گا،عثمان پیرزادہ کی ”زرگل“ کی طرح منظورنظر افراد کو نوازا جائے گا۔ مستحق فن کاروں کی مالی امداد کے نام پر خردبرد کی راہ ہموار کی جائے گی۔۔۔ لیکن۔۔۔ یہ سب بھی تب ہوگا ناں جب حکومت کو وقت ملے گا۔ اور اب تو شارٹ ٹرم ہو یا لانگ ٹرم، بات بنتی نظر نہیں آرہی۔ دوسری جانب ہماری معصوم فلم انڈسٹری کے کچھ لوگ ہیں جو دہائیوں سے رسوائیوں کی چکی میں پس کر بھی یہ اُمید لگائے بیٹھے ہیں کہ اس بار ضرور کچھ اچھا ہوگا۔

18222129_10211350212364580_6421756156366221703_n 18222553_10211350212324579_3461812246070304279_n 18301548_10211350212404581_7506866175261274505_n 18342706_10211350212444582_3166502355885788280_n

About author

metrolive

The author and admin of this site is Umar Khitab Khan. Have 20 years experience in media industry, he wrote many scripts for TV, write ups and features for magazines and news papers. A book based on biographies of celebrities also on his credit. His magazine Monthly Metro Live very popular in intellectuals but also in masses, He is affiliated with many social and professional organizations like Arts Council of Pakistan and Karachi Union of Journalists. He is also a film critic and member of SBFC (Sindh Board of Film Censors).

No comments

You may interested