جھوٹ کی ملاوٹ نے عید ریلیزز کی کامیابی مشکوک بنادی

0

سینئر تجزیہ نگار حنیف سحر کےقلم سے

16388383_1421540907889811_151667182752631462_n

عیدین کے تہواروں نے ایک بات تو ثابت کردی ہے کہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے لیے یہ تہوار پاکستان کے عوام سے بھی زیادہ ضروری اور لازمی ہیں۔ ان تہواروں پر ریلیز ہونے والی فلمیں کیسی ہی کیوں نہ ہوں بزنس خوب کرتی ہیں۔ عید الفطر پر یہی کچھ دیکھنے میں آیا اور عید الضحٰی پر بھی…. یعنی پاکستانی فلمیں ان دو ایوینٹس اور انھی دومہینوں کی محتاج ہیں ورنہ پورے سال ایک سے بڑھ ایک کچرا فلم آتی رہی اور جاتی رہی… بس ایک طیفا ایسی فلم رہی جس نے اپنے پیسے پورے کرلیے بنا کسی تہوار کی لاٹھی استعمال کیے۔

طیفا کی کامیابی میں تعریف کا ایک اور بھی پہلو نکلتا ہے اور وہ یہ کہ طیفا کے لیے انڈین اور ہالی وڈ فلموں کی نمائش پر کسی قسم کی کوئی روک ٹوک نہیں لگائی گئی اس کے باوجود طیفا نے بہتر بزنس کیا اور ایک پورا مہینا کامیابی سے پورا کرلیا…وگرنہ عیدین پر انڈین فلموں کی نمائش تک ممنوع قرار دے دی جاتی ہے اور یہ دنگل پوری طرح مقامی بنانے کے انتظامات کیے جاتے ہیں۔

IMG (3)

پہلے وقتوں میں فلموں کی کامیابی گولڈن جوبلی سے شروع ہوتی تھی اور ڈائمنڈ جوبلی تک یا اس سے بھی آگے جایا کرتی تھی۔ گولڈن جوبلی کا مطلب ہوتا تھا، فلم نے پچاس ہفتے پورے کرلیے۔ پلاٹینم جوبلی کا مطلب تھا 75 اور ڈائمنڈ جوبلی کا مطلب تھا 100 ہفتے… ہرچند کہ اعدادوشمار میں یہ پورے سو ہفتے دراصل سنیماز کی گنتی ہوتی تھی۔ وہ یوں کہ جتنے سینماز میں فلم چلتی اتنے ہی ہفتے شمار کیے جاتے تھے۔ مثلاً ریلیز کے وقت اگر فلم 25 سینماز میں ریلیز ہوتی تو یہ کہلاتے تھے 25 ہفتے۔ پھر جب جب اور جتنے سینماز فلم کو ملتے رہتے وہ ہفتوں کی گنتی میں شامل ہوتے چلے جاتے۔ یہ ساری لمبی چوڑی تفصیل بتانے کا ایک ہی مقصد ہے کہ اس نظام کے تحت کوئی بھی فلم میکر جھوٹ اور دھوکا دہی سے کام لے کر فلمی شائقین کو بے وقوف نہیں بنا سکتا تھا کیونکہ شائقین کے پاس فلم کے ہفتوں کی گنتی کا ریکارڈ موجود ہوتا تھا، گویا جو کچھ تھا سامنے، کھلا ہوا اور بالکل شفاف ہوا کرتا تھا۔ فلم ناکام ہوئی تب اور فلم کامیاب ہوئی تب بھی…. لیکن آج ایسا شفاف اور فلمی شائقین کے علم میں آجانے والا نظام موجود نہیں ہے حالانکہ وقت اور آلات زندگی کو دیکھتے ہوئے اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ آج کل سچ کو چھپانا ممکن ہی نہیں ہے لیکن یقین مانئیے سچ کو جس قدر اور جس حد تک آج چھپایا جاتا ہے، جاسکتا ہے، ایسا پہلے کبھی ممکن نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فلم میکرز، ان فلموں، اداکاروں کے پرستار بے مہار جھوٹ کو سچ کہہ کر اور سچ بناکر اس طرح پیش کرتے ہیں کہ عام فلمی ناظر کے پاس اصل حقیقت تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ موجود ہی نہیں ہوتا چنانچہ اسے جھوٹ اور سچ (جو چھپا ہوا ہے) ان دونوں کیمپوں میں سے کسی ایک کیمپ کا انتخاب کرکے اسی ڈگڈگی پر ناچنا پڑتا ہے جو فلم کا بزنس کرنے والے ادارے اور ان کے سہولت کار بے تکان اور پوری بے شرمی سے بجاتے ہیں اور لوگوں کو پیٹ بھر کے بے وقوف بناتے ہیں۔ آج جوبلی اور ہفتوں کی گنتی کوئی معنی نہیں رکھتی آج معنی رکھتے ہیں وہ اعداد و شمار جو سوشل میڈیا پر ڈگڈگی بجانے والے آپ لوڈ کرتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے اس کی فلم نے دس کروڑ کمالیے، کوئی پندرہ کوئی بیس اور کوئی پچاس تک کی بھی بات کرتا ہے۔ اس قسم کے جعلی اعداد و شمار پیش کرنے کا ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ وہ اپنی فلم کو کسی بھی صورت میں ناکام ماننے کو آمادہ نہیں ہوتے۔ جس کی وجہ اس کے علاوہ کیا ہوسکتی ہے کہ جب تک وہ اپنا کامیابی والا اعتبار بنائے رکھیں گے تب تک فلم کے جہان میں ان کی پتنگ اڑتی رہے گی اور وہ بار بار فنانسر گھیرنے میں کامیاب ہوتے رہیں گے۔

DSC_9353

میں نے ہفتوں کی جس گنتی کا ذکر کیا ہے اس میں ایک اور حیرت ناک پہلو یہ بھی ہے کہ ہر سرکٹ کے اپنے ہفتے ہوتے تھے، جیسے سندھ سرکٹ میں کوئی فلم گولڈن جوبلی کرتی ہے تو پنجاب سرکٹ میں وہ ہی فلم پلاٹینم جوبلی بھی کرسکتی ہے کیونکہ ہر سرکٹ کے اپنے سینماز اور اپنے ہفتے اپنی جوبلیاں ہوتی تھیں، جیسے آئینہ فلم کراچی میں جو سندھ سرکٹ کا حصہ سمجھا جاتا تھا چار سال سے بھی زیادہ عرصے تک چلتی رہی، دیکھی جاتی رہی اور یہ پاکستان کی فلمی تاریخ کا ایک ایسا ریکارڈ ہے جسے کوئی بریک نہیں کرسکا اور نہ ہی کوئی آئندہ کرسکتا ہے لیکن آج کے منظر میں کھلا سچ فلم دیکھنے والوں کے سامنے نہیں ہے اور آنے بھی نہیں دیا جاتا۔ آج کا بیانیہ پاکستان کے کسی سرکٹ تک محیط نہیں ہے بلکہ آج تو پوری دنیا میں ہونے والے بزنس کے بارے میں دعوے کیے جاتے ہیں کہ پاکستان سے باہر جن ملکوں میں فلم ریلیز ہوئی، وہاں سے بھی فلم نے اتنے کا بزنس کیا ہے۔ یہ اعداد و شمار نہ پاکستان میں اور پاکستان سے باہر کہیں سے بھی اگر کوئی  جانچنا چاہے تو ایسا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے جس کے ذریعے وہ اصل حقائق تک پہنچ سکتا ہو، کوئی اگر انھیں جانچنے کی کوشش بھی کرے تو اسے ایسا کچھ کہیں سے بھی حاصل نہیں ہوتا کہ وہ اصل اور حقیقی اعدادوشمار کا پتا چلا سکتا ہو۔ اب ہوتا یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بھر بھر منھ جھوٹ بولا جاتا ہے، جھوٹ بولنے والے جانتے ہیں کہ سچ اتنا زیادہ اندھیرے میں چھپا ہوا ہے کہ ان کے بیان کی حقیقت کا پردہ چاک کیا ہی نہیں جاسکتا۔بہت بولنے والے تو یہ تک نہیں جانتے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں ۔اس لیے وہ دھڑلے سے جھوٹ بولتے ہیں، ان کے فالوورز جن کی قیمت ایک پریمیر شو کے پاس جتنی ہے (اور بیشتر کو تو اس لائق بھی نہیں سمجھا جاتا) وہ مسلسل فلم کے بزنس کا غلغلہ سوشل میڈیا پر اٹھائے رکھتے ہیں، اختلاف کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں، ایک دوسرے کے سامنے ہوں تو شاید آپس میں دست و گریباں ہونے سے بھی نہ چوکیں… اور یہ سوشل میڈیا کی جنگیں ہمہ وقت آراستہ رہتی ہیں۔ فلم کو یقیناً ان غلط اعداد و شمار سے یہ فائدہ تو ضرور پہنچتا ہے کہ کچھ سیدھے اور نادان ناظرین جو رش دیکھ کر خریداری کرتے ہیں، وہ یہ سوچ کر فلم دیکھنے جاتے ہیں کہ جو فلم اتنا بزنس کررہی ہے وہ یقیناً بہت اچھی بھی ہوگی (ایسا ہی کچھ معاملہ عید پر جوانی پھر نہیں آنی2، کے ساتھ پیش آیا)۔ فلم دیکھنے کے بعد بھی بدقسمتی سے ان کی آزاد رائے قائم نہیں ہونے پاتی اور وہ وہی کچھ کہنے لگتے ہیں جو پہلے سے کہا جارہا ہوتا ہے۔ جھوٹ بار بار اور بے حساب بولا جائے تو وہ سچ لگنے لگتا ہے۔ ایڈولف ہٹلر نے اس مقولے کا ایسا زبردست استعمال کیا کہ دنیا اس گھٹیا روش سے اجتناب کرنے کی بجائے اس پر زور شور سے چل نکلی اور زور آوروں نے اسے اپنے سب سے زیادہ طاقت ور ہتھیار کے طور پراپنا لیا۔ اس ہتھیار نے سمجھو سچ کی گردن پر بیٹھ کر اس کا گلہ دبا ہی تو دیا ہے… چنانچہ اس وقت سب کچھ اسی کے گرد گھوم رہا ہے۔ ذہن یہی بناتا ہے… ذائقے اور ذوق اس کے گھر میں چاکری کرتے ہیں… جمالیاتی دانشوری کی قبر پر ہر دن فاتحہ پڑھی جاتی ہے، وہ بھی ایسے کہ…. کسی کو اعتراض بھی نہیں ہے۔ اعتراض کرنے اور حقیقت کو کھوجنے کی ساری صلاحیتوں سے لہو نچوڑ لیا گیا ہے، تھوڑا سا اختلاف کرنے والے پر بھی ایسے خونخوار کتے چھوڑ دیے جاتے ہیں جو سنتے سمجھتے بالکل نہیں، بس بھونکتے ہیں اور ان کے بھونکنے کی آواز اتنی بلند ہے کہ کسی کی کتنی بڑی اور موثر عقلی دلیل کیوں نہ ہو۔ وہ سنائی ہی نہیں دیتی اور سنائی نہیں دیتی تو پھر سمجھی کیسے جا سکتی ہے؟؟؟

33914037_1338764942925010_3771901216343195648_n
عید الضحٰی کی فلموں کے بارے میں بے حساب شور و غلغلہ مچا ہوا ہے، یہ شور و غلغلہ بلند بانگ بزنس کے دعووں کا ہے کہ یہی اس وقت کامیابی اور معیار کا سکہ ہے۔ اسی سکے سے ذہن، جمالیات، حسیت اور دل سب کچھ خریدا جا رہا ہے… انصاف اور سچائی بھی۔ جس کے پاس جتنا بڑا بھونکنے والا غول ہے، وہ اتنا ہی بڑا فلم میکر ہے۔ کامیاب بھی وہی اور…. کامیاب بھی وہ ہی ہے، کیونکہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں فلمیں کبھی ناکام نہیں ہوتیں۔

About author

metrolive

The author and admin of this site is Umar Khitab Khan. Have 20 years experience in media industry, he wrote many scripts for TV, write ups and features for magazines and news papers. A book based on biographies of celebrities also on his credit. His magazine Monthly Metro Live very popular in intellectuals but also in masses, He is affiliated with many social and professional organizations like Arts Council of Pakistan and Karachi Union of Journalists. He is also a film critic and member of SBFC (Sindh Board of Film Censors).

No comments

You may interested