fbpx 

عوامی سنیما کا بے تاج بادشاہ جان محمد

0
58647_1614889176751_2451350_n

آٹھ اپریل کو جان محمد مرحوم کی پندرہویں برسی منائی جارہی ہے۔

بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی فلم میکرجان محمد مرحوم کو ہم سے بچھڑے 15برس بیت چکے ہیں لیکن اُن کی ناقابل فراموش فلمیں ہمیشہ انہیں مداحوں کے دلوں میں زندہ رکھیں گی۔جان محمد مرحوم
پاکستان فلم انڈسٹری کے نام ور ڈائریکٹر،پروڈیوسراورسنیما ٹوگرافرتھے۔
انیس سو تینتالیس میں کراچی میں پیدا ہونے والے جان محمد مرحوم کا آبائی تعلق پشاور سے تھالیکن ان کے دادا پاکستان
بننے سے کئی سال قبل کراچی منتقل ہوگئے تھے۔جان صاحب کی اسکولنگ کراچی میں ہوئی۔ انہوں نے سینٹ پیٹرکس ہائی اسکول سے میٹرک کیا۔بعد ازاں ڈی جے سائنس کالج سے بیچلرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد بیلجیئم اور فرانس کا رُخ کیاجہاں انہوں نے سنیما ٹوگرافی کا کورس مکمل کیا۔ اسی دوران وہ فلموں کے لیے خام میٹیریل سپلائی کرنے والی بین الاقوامی کمپنی اگفا گیورٹ کی اسکالر شپ پر انگلینڈ بھیجے گئے جہاں سے انہوں نے سنیما ٹو گرافی کی ڈگری حاصل کی۔
انہوں نے 1967میں پاکستان فلم انڈسٹری میں بطور اسسٹنٹ کیمرہ مین انٹری دی اور پھر جلد ہی صف اوّل کے کیمرہ مین شمار ہونے لگے۔1969میں ریلیز ہونے والی فلم ”سالگرہ“ بطور سنیما ٹوگرافراُن کی پہلی فلم تھی۔اس کی کاسٹ میں وحید مراد اور شمیم آرا شامل تھے۔ اس کے بعد ان کے کریڈٹ پر متعدد فلمیں بطور سنیما ٹوگرافر آئیں جن میں چاند سورج،رنگیلا ، وغیرہ شامل ہیں۔
60790_1615123902619_956616_n
60790_1615123782616_2026314_n
انہوں نے 1972میں بحیثیت فلم پروڈیوسر سہرے کے پھول ، بنائی۔جس کے بعددل نشین، او ر پردہ نہ اُٹھاو ، جیسی کامیاب فلمیں پروڈیوس کیں۔1976میں جان محمد مرحوم نے بطور فلم ڈائریکٹر اپنا کیریئر اسٹارٹ کیا۔ بطور ہدایت کار اُن کی پہلی فلم ”دیکھا جائے گا“ باکس آفس پر زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ ان کی دوسری فلم بہت خوب، نے بھی بزنس کے ریکارڈ قائم کیے۔ بعد ازاں آمنا سامنا،موسم ہے عاشقانہ،چلتے چلتے، مسٹر رانجھا،پرکھ، جوانی دیوانی، ٹینا، ہانگ کانگ کے شعلے،بنکاک کے چور، منیلا کی بجلیاں، چوروں کا بادشاہ، روپ کی رانی، منیلا کے جانباز، انٹر نیشنل گوریلے، عالمی جاسوس،اور تین یکے تین چھکے،تک جان محمد مرحوم کی تمام فلمیں باکس آفس پر سپرہٹ یا ہٹ ہوئیں۔ان کی زیادہ تر فلمیں عید ین کے تہواروں پر ریلیز ہوتی تھیں لہٰذا فلمی پنڈتوں نے اُنہیں عید کا بادشاہ کے ٹائٹل سے نوازا۔جان صاحب نے اداکار شاہد،جاوید شیخ اور اظہار قاضی کے ساتھ سب سے زیادہ ہٹس دیں۔ ہیروئنوں میں اداکارہ بابرہ شریف ان کی فلموں کا لازمی جُزہوتی تھیں۔ جان محمدمرحوم کا ایک منفرد ریکارڈ یہ بھی ہے کہ بطور ڈائریکٹر اُن کی مسلسل دس فلموں نے باکس آفس پر کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔یہ اعزاز پاکستان میں کسی اور ڈائریکٹر کو حاصل نہیں ہوسکا۔بولی وڈ میں اس ریکارڈ کے حامل واحد فلم میکر من موہن ڈیسائی ہیں۔ جان محمد مرحوم کی ایکشن فلم ٹینا(1983) سے لے کر تین یکے تین چھکے (1991) تک مسلسل دس فلمیں سپرہٹ ہوئیں۔ محبت کے سوداگر، اور سب کے باپ، اپنا رنگ نہ جما سکیں لیکن ان کی آخری فلم کڑیوں کو ڈالے دانہ ،نے ایک بار پھر جان صاحب کو باکس آفس کا بادشاہ ثا بت کردیا ۔
جان محمد مرحوم کی چار فلموں دیکھا جائے گا، انٹرنیشنل گوریلے،بہت خوب، اور دل نشین ، کو بھارت میں بھی کاپی کیا گیا۔
60790_1615123742615_6549809_n
اپنے فلمی کیریئر میں انہوں نے متعدد ایوارڈز بھی اپنے نام کیے جن میں اگفا ایوارڈ، اسکرین ایڈورٹائزنگ ورلڈ ایسوسی ایشن ایوارڈ،نگار ایوارڈ قابل ذکر ہیں۔پاکستان میں امر یکی سفیر جوزف ایس مک فارلینڈ نے انہیں پرفارمنس سرٹیفیکٹ سے بھی نوازا۔ جان محمد مرحوم نے فلم انڈسٹری کو کئی اسٹارز بھی دیے جن میں معمر رانا، صاحبہ،محمد علی شہکی،سلیم شیخ، وغیرہ شامل ہیں۔
60485_1615122302579_5334001_n
جان محمد مرحوم کا انتقال 8اپریل 2002کو ہوا۔ اس برس ان کی پندرہویں برسی منائی جارہی ہے۔
جان محمد مرحوم کی اولادوں میں سے چھوٹے بیٹے جمشید جان محمد نے اپنے والد کے نقش ِ قدم پر چلتے ہوئے ڈائریکشن اور سنیما ٹوگرافی کی تربیت امریکہ سے حاصل کی۔جمشید جان کی پہلی فلم سوال سات سو کروڑ ڈالر کا، گزشتہ سال ریلیز ہوکر باکس آفس سے کامیابی کی سند حاصل کرچکی ہے۔
59185_1614890816792_5739066_n
آج جان محمد مرحوم اگرچہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن پاکستانی سنیما کے لیے ان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے ایکشن اور عوامی سنیما کے نام پر انٹر ٹین منٹ کا جو تصور پیش کیا تھا اس پائے کا کوئی دوسرا فلم میکراب تک لولی وڈ کو میسر نہیں آسکا، ان کا خلا شاید ہی پر کیا جاسکے۔
59002_1615127662713_6939532_n
59002_1615127422707_4973916_n
59002_1615127382706_2308557_n
46909_1615121502559_1518158_n

About author

metrolive

The author and admin of this site is Umar Khitab Khan. Have 20 years experience in media industry, he wrote many scripts for TV, write ups and features for magazines and news papers. A book based on biographies of celebrities also on his credit. His magazine Monthly Metro Live very popular in intellectuals but also in masses, He is affiliated with many social and professional organizations like Arts Council of Pakistan and Karachi Union of Journalists. He is also a film critic and member of SBFC (Sindh Board of Film Censors).

No comments

You may interested