fbpx 

Chanar Ghati, A mega serial from TV One!

39
DF082i0UMAMH4_l

پاکستانی میڈیا انڈسٹری کے آئی کون

غضنفر علی کی دھواں دار واپسی

 چنار گھاٹی 

اسٹار کاسٹ اور ہائی پروڈکشن ویلیو کے باعث ناظرین کی توجہ کا مرکز بن گیا

Ghazanfar Ali

غضنفر علی ،پاکستان کی میڈیا انڈسٹری کا ایسا نام ہے جنہوں نے روایتی ڈرامے کا ہی کانسیپٹ چیلنج نہیں کیا بلکہ جب بھی اور جو بھی کام کیا ،اس میں روایت شکن ثابت ہوئے۔وارث، جیسا مقبول عام ڈرامہ ان کے کریڈٹ پر ہے جس میں جاگیردارانہ نظام کی زبردست عکاسی کی گئی۔ پھر جب سرکاری ٹی وی ان کے آڑے آیا تو وہ یہ چلتا ہوا پروجیکٹ چھوڑ کر بغاوت کرگئے۔پاکستان کی پہلی پرائیوٹ پروڈکشن،پہلا سوپ،پہلا نجی چینل ،غضنفر علی کے نام سے ایک پوری تاریخ منسوب ہے۔اب انہوں نے اپنا نیا پروڈکشن ہاو¿س لانچ کیا ہے تو اُن کی پہلی پروڈکشن ہی ناظرین کی توجہ کا مرکزبن گئی ہے۔ ماضی میں انہوں نے کمبائن،کے بینر سے معرکہ آرا ڈرامے تخلیق کیے۔ اب جینسزپروڈکشنز کے بینر سے اُن کاپہلا سیریل ”چنار گھاٹی“ٹی وی ون سے ہر بدھ کو آٹھ بجے شب نشر کیا جارہا ہے جس کی اب تک چار اقساط پیش کی جاچکی ہیں۔ پروڈکشن ویلیو اوراسٹار کاسٹ کے اعتبار سے یہ ایک میگا سیریل ہے جس کی لاگت تین کروڑ روپےہے۔
چنار گھاٹی،کا کانسیپٹ بے حد دلچسپ اور ڈرامائی تاثر لیے ہوئے ہے جس کی وجہ سے اسے ناظرینمیں مقبولیت حاصل ہورہی ہے۔اسے ڈائریکٹ بھی خود غضنفر علی نے کیا ہے جو ایک طویل عرصے بعد ڈائریکشن میں سرگرم ہوئے ہیں۔
یہ کہانی دو مختلف ادوار میں دُہرائی گئی ہے۔ایک زمانہ ہے اٹھارویں صدی کا،جب بر صغیر پر انگریزوں کی حکمرانی تھی۔محبت میں بے وفائی کے المیے سے دوچار ہونے والے اس کہانی کے دو کردار موجودہ دور میں اپنا انتقام لینے کے لیے واپس آتے ہیں۔جہاں آراء(سمیعہ ممتاز)اور گیتی (شمائل ترین)،دو بہنیں ہیں جو کنویں میں چھلانگ لگا کرزندگی کا خاتمہ کرلیتی ہیں لیکن ان کی روحیں جسم سے الگ ہونے کے بعد بھی زندہ رہتی ہیں۔جہاں آراءاور جلال راو¿(علی خان)،ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور ایک دوسرے کو ٹوٹ کر چاہتے ہیں۔جلال کو برٹش امپائر میں ملازمت مل جاتی ہے اور انگریز افسر سائمن (سہیل ہاشمی)،جلال کو ذمے داری سونپتا ہے کہ وہ چنار گھاٹی کی وادی میں نواب شوکت مرزا(حنیف محمد)،کے اثرو رسوخ کو ختم کرنے کے منصوبے پر کام کرے۔شوکت مرزا،جہاں آراءکا باپ ہے۔جلال پہلے پہل تو انگریز افسر کے حکم کو شادی تک ٹالنے کی کوشش کرتا ہے لیکن پھر مراعات کی لالچ میں چنار گھاٹی پر دھاوا بول دیتا ہے۔مزاحمت میں نواب شوکت مرزا کی جلال کے ہاتھوں موت ہوجاتی ہے اور شوہر کے صدمے میں بیگم شوکت مرزا(زرنین مسعود)بھی مر جاتی ہیں۔نواب کی دونوں بیٹیاں وہاں سے بھاگ جاتی ہیں لیکن ایک کنویں کے پاس جلال ان تک پہنچ جاتا ہے۔وہ انہیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہے کہ اس کا کوئی قصور نہیں۔وہ نواب صاحب کو مارنا نہیں چاہتا تھا لیکن جہاںآراءاس کی بات کا یقین نہیں کرتی۔وہ اسے یہ کہہ کر کنویں میں کو د جاتی ہے کہ جلال کی موت ا س کے ہاتھوں ہوگی اور وہ اسے کبھی چین سے جینے نہیں دے گی۔گیتی اور جہاں آراءدونوں کنویں میں چھلانگ لگا دیتی ہیں۔نواب کی ہلاکت کے انعام میں جلال راو¿ کو چنا ر گھاٹی کا مختار نامہ اور عمل داری مل جاتی ہے۔
کہانی آج کے دور میںایک نئے انداز میں آگے بڑھتی ہے۔ مائرہ(انوشے اشرف)،ساجد(ٹیپو شریف)، اور جنید(ڈینوعلی)، ایک ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں ساتھ کام کرتے ہیں۔ساجد اور مائرہ ایک دوسرے میں اُنسیت رکھتے ہیںلیکن برملا اس کا اظہار نہیں کرتے۔جنید ان دونوں کے درمیان خوامخواہ کا رقیب بنا ہوا ہے اور مائرہ کو لائن مارتا رہتا ہے۔یہ ایک فنی ٹائپ کیریکٹر ہے۔مائرہ کو ایک اشتہار کے شوٹ کے سلسلے میں لوکیشن کی تلاش ہوتی ہے۔ساجد اس کی یہ مشکل حل کریتا ہے اور اسے چنار گھاٹی کے بارے میں بتاتا ہے جو کہ کراچی سے دور ایک ویران علاقہ ہے ۔وہاں کے کھنڈرات کافی پر اسرار ہیں جس کی وجہ سے لوگ وہاں کا رُخ کرنے سے ڈرتے ہیں۔ساجد ،یہ ٹاسک لیتا ہے کہ وہ پہلے خود چنار گھاٹی کی ریکی کرنے جائے گا۔ اس کے بعد مائرہ اپنے کریو کے ساتھ کمرشل کی شوٹ کے لیے جائے گی۔
علی(علی نور) ایک لا اُبالی لڑکا ہے جو امریکہ سے پڑھ کر پاکستان لوٹا ہے۔ہائی وے پر اس کی کار ایک لڑکی سے ٹکراتی ہے۔علی کی نظریں اس خوب صورت لڑکی سے چار ہوتی ہیں۔یہ گیتی ہے۔جس نے کئی سال پہلے کنویں میں چھلانگ لگاکر خود کشی کی تھی۔علی ایک فلرٹ بوائے ہے۔اسی طرح اس کا سامنا حادثاتی طور پر مائرہ سے ہوتا ہے۔وہ اس کو متاثر کرنے کے لیے کبھی پھول تو کبھی کارڈ بھیجتا ہے لیکن مائرہ کو اس کی یہ حرکتیں پسند نہیں آتیں۔
ساجد ،چنار گھاٹی کی لوکیشن دیکھنے ٹرین سے روانہ ہوتا ہے۔کیونکہ وہاں کا راستہ کافی دشوار گزار ہے۔یہ علاقہ دنیا سے الگ تھلگ نظر آتا ہے ۔جہاں زندگی کی بنیادی ضرورتیں بھی نہیں ہیں۔چنار گھاٹی پہنچتے ہی ساجد کے موبائل فون کے سگنل آف ہوجاتے ہیں۔وہ اسٹیشن سے باہر نکلتا ہے تو اسے ایک بگھی ملتی ہے جس میں جہاں آراءسوار ہوتی ہے۔وہ اسے چنار گھاٹی پہنچانے کی پیشکش کرتی ہیں۔ساجد ،جہاں آراءکی شخصیت اور حسن سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔سفر کی تھکان کی وجہ سے راستے میں ساجد کی طبیعت خراب ہوجا تی ہے۔ جہاں آراءاسے اپنی حویلی لے جاتی ہے ۔صبح ساجد کی طبیعت بحال ہوتی ہے تو وہ خود کو گیتی اور جہاں آراء کے درمیان پاتا ہے۔
حویلی میں ساجد کے ساتھ پراسرار واقعات اور معاملات پیش آتے ہیں۔دونوں بہنیں نہیں چاہتیں کہ ساجد یہاں سے واپس چلا جائے۔وہ اسے دوا کے نام پر ایک مشروب پلاتی ہیں جس کے باعث وہ اکثر مدہوش رہتا ہے۔دراصل جہاں آراءکو ساجد کی شکل میں جلال کی صورت دکھائی دیتی ہے ۔وہ اکثر اسے دیکھ کر جلال راو¿ کی محبت کی آغوش میں چلی جاتی ہے اور پھر اس کے تصور کو جھٹک کر واپس آجاتی ہے۔اسے جلال کی صورت سے محبت بھی ہے اور وہ اس سے نفرت کرنے پر مجبور بھی ہے۔اور انہی جذبوں کا اظہار وہ ساجد کے ساتھ کرتی ہے۔
چنا ر گھاٹی میں بسنے والا ایک اور عاشق‘ مراد (عمر قاضی)،ہے۔وہ اکثر کھنڈروں میں جاکر بانسری بجاتا ہے کیونکہ اس بانسری کی آواز سن کر اس کی محبوبہ گیتی ،اس کے پاس چلی آتی ہے۔بکریاں چرانے والا گڈریا مراد، کا باپ (خالد ظفر)اسے بہت سمجھاتا ہے کہ اس ویرانے میں نہ آیا کر مگروہ تو گیتی کے عشق میںدیوانہ ہے۔وہ اس کی پائل کی جھنکار سننے کے لیے روزانہ رات کو کھنڈر کا رخ کرتا ہے۔
حویلی میں رہتے رہتے ساجد کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جاتی ہے۔وہ کمزور اور لاغر ہونے لگتا ہے۔جہاں آراء، گیتی کو کہتی ہے کہ وہ ساجد کو مصروف رکھے تاکہ وہ یہاں سے جانے کی بات نہ کرے اور گیتی میں اس کا دل لگا رہے۔جہاں آراء،گیتی کے دل میں ساجد کے لیے ہمدردی کو محسوس کرتے ہوئے اسے تنبیہ کرتی ہے کہ وہ کہیں سچ مچ اس سے دل نہ لگالے۔
دوسری جانب کراچی میں ساجد کی ماں سمیت مائرہ،اور اس کے دیگر دوست پریشان ہوجاتے ہیں کہ آخر ساجد نے پلٹ کر رابطہ کیوں نہیں کیا۔ساجد کی ماں پولیس میں رپورٹ کردیتی ہیں۔مگر پولیس پارٹی بھی ناکام لوٹ آتی ہے ۔انہیں وہاں ساجد کی موجودگی کو کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ کہانی اسی طرح ڈرامائی انداز میں آگے بڑھتی ہے ۔ آنے والی اقساط میں مذید انکشافات ہونے ہیں۔
چنار گھاٹی،کی ایگزیکٹیو پروڈیوسر سیما طاہر خان ہیں جبکہ کانٹینٹ ہیڈ شہوار رحیم ہیں۔ مرکزی خیال محمد احمد کا ہے جبکہ ڈرامائی تشکیل عمر خطاب خان نے دی ہے۔
چنار گھاٹی،کی کاسٹ میں دور ِ حاضر کے سپر اسٹارز شامل ہیں جن میں علی خان، سمیعہ ممتاز، ٹیپو شریف ، شمائل ترین ، ڈینو علی، انوشے اشرف، سدرہ جبار، خالد ظفر،حنیف محمد، سہیل ہاشمی، نذہت نذراور علی نور شامل ہیں۔ علی نور،پاکستان کے ٹاپ میوزک بینڈ ”نوری“ کے لیڈ ووکلسٹ ہیں اور یہ ان کا ایکٹنگ ڈیبیو ہے۔ چنار گھاٹی،کا اوریجنل ساونڈ ٹریک محمد علی شہکی نے کمپوز کیا ہے اور انہی کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لیریکس کشور ناہید کے ہیں۔

Aly Khan (9)

IMG_8959

Samia Mumtaz (4)

Samia Mumtaz (8)

Shumail Tareen (4)

WhatsApp Image 2017-02-10 at 5.01.59 PM.jpeg

WhatsApp Image 2017-02-10 at 5.02.55 PM.jpeg

WhatsApp Image 2017-02-19 at 1.25.25 AM.jpeg

Chanar Ghati

After a decade of silence, the ‘Grand Master’ of Television Entertainment ‘Ghazanfar Ali’ is back with a ‘Bang’
“CHANAR GHATI”
where its yesterday once more.This is a haunting story of intense love, betrayal and vicious revenge.
A story that travels back and forth in time to unravel mysterious events and eerie phenomena.
Sajid and Maira are colleagues in an advertising agency and start developing a romance. Then suddenly Sajid disappears while on a recce for a location in an area called Chanar Ghati. While his family and friends begin a frantic search, Sajid has some strange experiences in the eerie environs of Chanar Ghati. Two beautiful women clad in silks and brocade appear from nowhere and play utterly charming hosts providing him all he needs. But Sajid senses that there is something sinister going on and there is an evil force around him. Meanwhile Ali Rao who also wants to marry Maira, offers to recover Sajid. The question is whether Sajid will escape in time –or will Ali Rao allow his rival to be eliminated by the evil force.Cast: Aly Khan, Ali Noor, Shamayel, Samiya Mumtaz, Anoushey, Dino, Tipu Sharif
Writers : Mohammad Ahmed & Umar Khitab Khan
Director : Ghazanfar Ali

Watch every Wednesday at 8 pm only on TV One 

About author

metrolive

The author and admin of this site is Umar Khitab Khan. Have 20 years experience in media industry, he wrote many scripts for TV, write ups and features for magazines and news papers. A book based on biographies of celebrities also on his credit. His magazine Monthly Metro Live very popular in intellectuals but also in masses, He is affiliated with many social and professional organizations like Arts Council of Pakistan and Karachi Union of Journalists. He is also a film critic and member of SBFC (Sindh Board of Film Censors).

39 comments

  1. click here 18 June, 2018 at 11:54 Reply

    It as not that I want to copy your internet site, but I really like the design. Could you tell me which theme are you using? Or was it especially designed?

  2. seo vancouver 7 July, 2018 at 16:48 Reply

    Spot on with this write-up, I genuinely assume this site wants way a lot more consideration. IaаАа’б‚Т€ТšаЂаŒаАа’б‚Т€ТžаБТžll probably be once far more to read far much more, thanks for that info.

  3. SEO 20 July, 2018 at 23:09 Reply

    You created some decent points there. I looked on the net for that challenge and discovered most of the people will go coupled with with all of your internet site.

  4. to learn more 23 July, 2018 at 09:50 Reply

    Wow, wonderful blog layout! How long have you been blogging for? you made blogging look easy. The overall look of your website is fantastic, let alone the content!

  5. this website 24 July, 2018 at 15:35 Reply

    Well done for posting on this subject. There is not enough content posted about it (not particularly good anyway). It is pleasing to see it receiving a little bit more coverage. Cheers!

  6. click here 10 August, 2018 at 12:14 Reply

    Ultimately, an issue that I am passionate about. I ave looked for details of this caliber for that very last numerous hrs. Your website is significantly appreciated.

  7. for more information 14 August, 2018 at 12:29 Reply

    Usually I do not read article on blogs, but I would like to say that this write-up very pressured me to take a look at and do so! Your writing taste has been surprised me. Thanks, quite great article.

  8. for more info 15 August, 2018 at 11:59 Reply

    IaаАа’б‚Т€ТšаЂаŒаАа’б‚Т€ТžаБТžve recently started a site, the info you offer on this website has helped me tremendously. Thanks for all of your time & work.

Post a new comment

You may interested