The ‘Dark Side’ Of The Lux Style Awards!

0
Screenshot_1-537x360

ایک دور تھا کہ پاکستان میں سالانہ100کے لگ بھگ فلمیں سنیماؤں کی زینت بنتی تھیں۔تب مختلف اخبارات اور اداروں کی جانب سے ایوارڈز کا سلسلہ بھی کافی مقبول تھا اور ان ایوارڈز کو انڈسٹری کی جانب سے حوصلہ افزا پزیرائی بھی ملتی تھی جیسا کہ نگار ایوارڈز تھے جو فلمی حلقوں میں قدر کی نگا ہ سے دیکھے جاتے تھے۔پھر انڈسٹری زوال کا شکار ہوئی تو سنیما گھروں کے ساتھ ان ایوارڈز کی مورتیاں بھی منہدم ہوگئیں۔پچھلے چند سالوں میں دوبارہ سے فلموں کا جنم ہوا ہے تو ایوارڈز کے نام پر اپنی اپنی دُکانیں لگانے والے بھی سرگرم ہوگئے۔ کارپوریٹ سیکٹر نے فلموں میں دخل اندازی شروع کی تو ایوارڈ شوز بھی ”کارپوریٹ“ ہوگئے۔ ایوارڈ ونرز تو ایک جانب، نامزدگیوں کے لیے بھی بولیاں لگنے لگیں۔اس حوالے سے حالیہ کچھ سالوں میں اے آر وائی ایوارڈز، ہم ایوارڈز اور لکس اسٹائل ایوارڈز کافی متنازعہ رہے ہیں ۔
لکس اسٹائل ایوارڈزنے تو متنازعہ فیصلوں میں سب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ان ایوارڈز کے جیوری ممبرز فلمیں دیکھتے ہی نہیں (جس کا راقم کے پاس واضح ثبوت بھی ہے)۔یہی وجہ ہے کہ ہر سال کچھ لوگوں کو زبردستی ایوارڈز سے نوازا جاتا ہے،چاہے وہ اسکرین پر ہوں یا نہ ہوں،اُن کے کریڈٹ پر اُس سال کچھ موجود ہو یا نہ ہو، اُن کا ایوارڈ پر حق یقینی ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیوری ممبرز بھی شو آرگنائزرفریحہ الطاف کے زیر اثر ہوتے ہیں ۔اور کیوں نہ ہوں؟ ان کی نامزدگی بھی تو فریحہ الطاف ہی کرتی ہے۔
گزشتہ سال ڈھیر ساری ناکامیاں اورتنازعات اپنے دامن میں سمیٹنے کے بعد اس سال ایک بار پھر لکس اسٹائل ایوارڈزنے پہلے ہی مرحلے یعنی نامزدگیوں میں حرام زدگیوں کا سنگین مظاہرہ کیا ہے۔ایوارڈ انتظامیہ نے پہلے ہی مرحلے میں ثابت کردیا ہے کہ وہ صرف منظور ِ نظر افراد کوہی جتوانے والے ہیں۔جس کا ثبوت یہ ہے کہ نامزدگیوں میں جان بوجھ کر بعض اہم فلموں اور ایکٹرز کو نظر انداز کردیا گیا۔ جبکہ اس کے برعکس بعض انتہائی بُری فلموں کو نامزدگیوں کا حصہ بنایا گیا ہے۔
سب سے پہلے بات کرتے ہیں بیسٹ فلم کی۔اس شعبے میں ایکٹر ان لائ،دوبارہ پھر سے، ہومن جہاں، جانان، اورماہِ میر ،کو شامل کیا گیا ہے۔ جبکہ زندگی کتنی حسین ہے ، اور مالک، کو نظر انداز کردیا گیا۔حالانکہ یہ دونوں فلمیں ماہِ میر ،اور دوبارہ پھر سے، کے مقابلے میں بہتر تھیں۔ ماہِ میر ،جیسی آرٹسٹک فلم کی تو پاپولر فلموں کی کیٹے گری میں جگہ ہی نہیں بنتی ،ایسی فلموں کو کریٹکس چوائس ایوارڈ ملنا چاہیے۔اب ان نامزدگیوں کا اعلان کرکے کیا فائدہ،جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ایوارڈ ”ایکٹر ان لا“ کے لیے طے شدہ ہے۔
اب آتے ہیں بیسٹ فلم ایکٹریس کیٹے گری کی جانب۔اس شعبے میں ماہرہ خان، مہوش حیات، صبا قمر، سجل علی، اور صنم سعید کو نامزد کیا گیا ۔ اب ان لوگوں سے کون پوچھے کہ ایمان علی(ماہِ میر)،حریم فاروق(دوبارہ پھر سے)، اور ارمینا رانا خان(جانان)نے کیا قصور کیا تھا؟جو وہ ان نامزدگیوں میں شامل نہیں۔ یا صبا قمر اور صنم سعید نے زیادہ اچھی ایکٹنگ کردکھائی؟دراصل وجہ کچھ اور ہی ہے جو فریحہ الطاف ہی بہتر جانتی ہے۔
16388070_574241386116850_9124898661062665672_n

بیسٹ ایکٹر کیٹے گری میں بھی کچھ ایسے ہی جوکس ملتے ہیں۔یہاں عاشر عظیم، فہد مصطفی، محب مرزا، اور یاسر حسین کے نام تو موجود ہیں لیکن حمید شیخ(عبداللہ)،بلال اشرف(جانان)،اورفیروز خان(زندگی کتنی حسین ہے) ،کا کوئی تذکرہ ہی نہیں ہے۔لکس اسٹائل ایوارڈز کی جیوری سے ہمارا سوال ہے کہ آپ کو مالک، میں عاشر عظیم کی اداکاری میں ایسا کیا نظر آگیا جو آڈیئنس کی نظروں سے پوشیدہ رہا۔ یا بچانا، میں محب مرزا نے اداکاری کے کیا جوہردکھادیئے جو ہماری نظروں سے اوجھل رہے؟ جس فلم (مالک)کو بیسٹ فلم کی نامزدگی ملنا تھی اس کو آپ نے ایکٹنگ کے کھاتے میں فٹ کردیا!
اب چلتے ہیں بیسٹ ڈائریکٹر کی طرف۔لکس اسٹائل ایوارڈزکی تمام کیٹے گریز میں پانچ پانچ نامزدگیاں ہیں لیکن اس شعبے میں”سب“ کو مینج کرنے کے لیے ”6“نامزدگیاں کی گئی ہیں۔ انجم شہزاد کو ماہِ میر، کے لیے نامزد کیا گیا ہے حالانکہ اسی ڈائریکٹر کی ”زندگی کتنی حسین ہے“ زیادہ پاور فل فلم ہے۔عاصم رضا،اظفر جعفری، مہرین جبار، نبیل قریشی، اور وجاہت رو¿ف ،کی نامزدگیاں محض خانہ پری ہیں۔ اگر لاہور سے آگے، اور دوبارہ پھر سے،کے ڈائریکٹرز کو لکس والے بہتر ین ڈائریکٹر سمجھتے ہیں تو ان کی عقل پر سوائے ماتم کرنے کے اور کیا بھی کیا سکتا ہے؟
بچانا، مالک، سوال سات سوکروڑ ڈالر کا، ریوینج آف دا ورتھ لیس،میں ان سے کہیں بہتر ڈائریکشن تھی۔
ایسی ہی مضحکہ خیز نامزدگیاں ہمیں بیسٹ سپورٹنگ ایکٹریس کے شعبے میں ملتی ہیں۔اس کیٹے گری میں ہانیہ عامر(جانان)، صبور علی(ایکٹر این لائ)، صنم سعید(دوبارہ پھر سے) ،سونیا جہاں(ہو من جہاں)، طوبیٰ صدیقی(دوبارہ پھر سے)، کے نام شامل ہیں۔اب جس جس نے یہ فلمیں دیکھ رکھی ہیں وہ خود ہی فیصلہ کرلیں کہ ہانیہ اور صبور نے ان فلموں میں کیا پرفارمنس دی جس نے جیوری ممبرز کو ہلا کر رکھ دیا۔ اور یہ لڑکیاں آخر ہیں کون؟
صنم سعید اور سونیا جہاں کی حد تک تو بات سمجھ آتی ہے لیکن یہ آخر طوبیٰ کہاں سے بیسٹ سپورٹنگ ایکٹریس ہوگئی؟ جیوری ممبرز قسم کھاکر بتائیں ،کیا آپ لوگوں نے واقعی یہ فلم دیکھی ہے یا کسی نے بتادیا اور آپ نے طے کرلیا!
بیسٹ سپورٹنگ ایکٹر کے لیے لکس اسٹائل ایوارڈزنے علی کاظمی، علی رحمان خان، منظر صہبائی ، اوم پوری، اورشہر یار منور کو نامزد کیا ہے۔اتنی بوگس نامزدگیوں کے سامنے لکس انتظامیہ کیا جواب دے سکتی ہے کہ آخر کیوں عدیل ہاشمی(بچانا)، عدنان شاہ ٹیپو(مالک)،ایوب کھوسو اور ندیم بیگ(ہجرت)،غلا م محی الدین(سوال سات سو کروڑ ڈالر کا)،اورعجب گل(سلیوٹ)، کو نظر انداز کردیا گیا ۔یا پھر ان فلموں کو کنسیڈر ہی نہیں گیا؟
لکس اسٹائل ایوارڈزکے متنازعہ اور غیر مقبول ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ یہ ایوارڈز اپنے اجرا سے لے کر آج تک اپنی سمت ہی متعین نہیں کرپائے۔ناہی یہ ایوارڈز فلم ایوارڈز کہے جاسکتے ہیں اور نہ ٹی وی انڈسٹری کی ترجمانی کرتے ہیں۔ایوارڈ مینجمنٹ نے اسے چوں چوں کا مربہ بنادیا ہے۔
فلم کی کیٹے گریز میں بیسٹ ایکٹر ان نیگیٹو رول اور چائلڈ اسٹارکے شعبے ہی نہیں ہیں جس کی وجہ سے اس سال منفی کرداروں میں بہترین پرفارمنس دینے والے ایکٹرز نیر اعجاز، شفقت چیمہ، حسن نیازی،علی خان،عدنان ٹیپو اور چائلڈ اسٹارز جبرئیل احمد(زندگی کتنی حسین ہے)، علی محتشم (سلیوٹ)نامزدگی تک سے محروم رہے۔
لکس اسٹائل ایوارڈزکی ایک اور خامی میوزک ڈائریکٹر، سنیما ٹوگرافر، ڈیبیو ڈائریکٹر،اسکرپٹ رائٹر، کوریو گرافر ،کی کیٹے گریز کا نہ شامل کیا جانا بھی ہے ۔ اس کے علاوہ کریٹکس چوائس ایوارڈزکیٹے گری کا نہ ہونا بھی بڑی خامی ہے جس کی وجہ سے بعض لوگوں کو محض خوش کرنے کے لیے پاپولر فلموں کے شعبے میں ڈال دیا جاتا ہے جیسا کہ اس سال ماہِ میر ،کے ساتھ کیا گیا ہے۔لکس اسٹائل ایوارڈز2017کی نامزدگیوں پر بڑاسوالیہ نشان میوزک کیٹے گری میں سال کی بڑی فلم عشق پازیٹیو، کا شامل نہ ہونا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس فلم کا کوئی گیت نامزدگیوں کا مستحق بھی نہیں سمجھا گیاحالانکہ اس ناکام فلم کے گانے میوزک چارٹس پرنمایاں نظر آئے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو لکس اسٹائل ایوارڈز2017کی نامزدگیوں نے ہی ایوارڈ شو کا سارا نقشہ ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔اب کس کس کو وہاں نوازا جانا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ سارے فیصلے بند لفافوں کے کھلنے سے پہلے ہی فریحہ الطاف لے چکی ہیں۔
5

About author

metrolive

The author and admin of this site is Umar Khitab Khan. Have 20 years experience in media industry, he wrote many scripts for TV, write ups and features for magazines and news papers. A book based on biographies of celebrities also on his credit. His magazine Monthly Metro Live very popular in intellectuals but also in masses, He is affiliated with many social and professional organizations like Arts Council of Pakistan and Karachi Union of Journalists. He is also a film critic and member of SBFC (Sindh Board of Film Censors).

No comments

You may interested