مستقبل قریب میں 1.7ملین لوگوں کوماحولیاتی تبدیلی کے باعث نقل مکانی کرنا پڑسکتی ہے، ڈاکٹر اقبال سعید خان

0
The theme does not support this video type, please try with youtube or vimeo video

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی پریس اینڈ پبلی کیشن کمیٹی کے زیر اہتمام سماجی تنظیم ماں ویلفیئر سوسائٹی کے تعاون سے ”ماحولیاتی آلودگی کے مضر اثرات “ کے موضوع پر خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی ماہر ماحولیات ڈاکٹراقبال سعید خان(ڈی جی کچی آبادیز، سندھ) نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی نہایت اہم موضوع ہے جس کا تعلق ہماری زندگیوں سے ہے ،اس تبدیلی پر انسانوں کو مل جل کر سوچنا چاہئے اور ماحول کی جو تباہی ہمارے یہاں ہورہی ہے اس کو روکنے کے لیے مل جل کر اقدامات کرنے چاہئیں، عوام میں اس بات کا شعور بیدار کیا جائے کہ وہ اپنے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے درخت لگائیں۔ ہمارے یہاں گاڑیوں کے دُھوئیں اور جگہ جگہ کچرا جلانے سے آلودگی بڑھ رہی ہے، اس کے لیے بھی حکومت کو اقدامات کرنے چاہئیں۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ گرین ہاﺅس گیسوں کا اخراج دُنیا کو گرم سے گرم ترکرنے کا باعث بن رہا ہے جس کے باعث جنگلی حیات متاثر ہورہی ہے، گلیشیئرپگھل رہے ہیں اور سمندر کی سطح بلند سے بلند ہورہی ہے، شدید گرمی کے باعث درخت اور پودے مرجھا رہے ہیں۔ درخت بارشیں برسانے کا ایک اہم ذریعہ ہے ، ان کی حفاظت ہم سب کا فرض ہے۔

Dr Iqbal Saeed Khan (4)

ماحولیاتی سائنسدان ڈاکٹر اقبال سعید خان نے کہا کہ ماحولیات کا مسئلہ اس قدر سنگین ہوتا جارہا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق مستقبل قریب میں 1.7ملین لوگوں کواپنے اِردگرد کے ماحول کی حیات کے لیے ناقابلِ برداشت تباہی کے باعث اپنے اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرنا پڑے گی اور یہ ہجرت بہت خوفناک اور بہت تکلیف دہ ہوگی۔ماحولیات کی آلودگی کئی حوالوں سے بیان کی جاسکتی ہے کیونکہ اِس کے بہت سے پہلو ہیں، اکثر لوگ گہرے سبز رنگ کی سبزیاں دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ یہ بہت اچھی اور تازہ ہیں یا ان دنوں مارکیٹ میں کثرت سے دستیاب ادرک بہت صاف ستھری اور چمکتی ہوئی دکھائی دیتی ہے تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اسے سلفِیورک ایسڈ سے دھویا جاتا ہے جو ادرک کو زہریلا بنادیتا ہے،لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسی سبزی زیادہ تازہ اور بہتر ہے مگر یہ تاثر غلط ہے، جو بھی سبزی زیادہ سبز یا گہرے رنگ کی نظر آئے تو سمجھ جائیے کہ اِس سبزی کی آبیاری کاپر سلفیٹ ملے پانی سے کی گئی ہے اور یہ اِنسانی صحت کے لیے مضر ہے کیونکہ کاپر سلفیٹ دراصل نیلا تھوتھا ہے جو کہ انسانی صحت کے لیے انتہائی مہلک اور خطرناک ہے۔ اِس کا مسلسل استعمال انسانی صحت کے لیے اِس قدر خطرناک ہے کہ نا صرف مہلک امراض بلکہ جان کے زِیاں کا بھی سبب بنتا ہے۔انہوں نے مذید کہا کہ ہمارے یہاں صنعتی فضلہ ٹھکانے لگانے کا کوئی مناسب اِنتظام نہیں ہوتا اور صنعتی فضلہ سمندر میں ڈال دیا جاتا ہے، اِس وجہ سے ہوتا یہ ہے کہ صنعتی فضلہ جو کہ اِنسانی صحت کے لیے بے حد خطرناک ہے،کسی نہ کسی طرح کھانے پینے کی چیزوں میں شامل ہوجاتا ہے، جیسا کہ چمڑے کی انڈسٹری ہے،ان کا تمام فضلہ سمندر،کنوو ¿ں یا دریاو ¿ں میں ڈالا جاتا ہے، یہ مواد اِس قدر زہریلا ہوتا ہے کہ آبی حیات کو ختم کردیتاہے۔اس میں کرومیم شامل ہوتا ہے جو کہ بہت زہریلا ہوتا ہے، پینے کے پانی میں یہ زہریلا مواد شامل ہوکر خطرناک امراض کا سبب بنتا ہے اور کرومیم اگر پانی میں شامل ہوجائے تو پانی کسی بھی طرح صاف نہیں ہوسکتا،حتیٰ کہ فلٹر سے بھی پانی صاف نہیںکیا جاسکتا۔اگر یہ مواد سمندرکیبجائے زمین پر بھی ڈالا جائے تو وہ مٹی کو آلودہ اور زہریلا کردیتا ہے، ایسی مٹی فصل میں زہریلے مادّوں کا سبب بنتی ہے اور اس میں اُگنے والی فصل اور سبزیاں اِنسان کے لیے مضر ہوتی ہیں۔ ایسی مٹی سے اُٹھنے والی گرد انسانی جلد، آنکھ،ناک، کان اور گلے کے امراض کا باعث بن سکتی ہے۔

Dr Iqbal Saeed Khan (7)

ڈاکٹر اقبال سعید خان نے مذید کہا کہ ہمارے یہاں ہر سال ساٹھ ملین گیلن سیوریج کا پانی سمندر میں ڈالا جاتا ہے، ایسی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔یہ چیز سمندری حیات کو تباہ کرنے میں بڑا کردار ادا کر رہی ہے۔ سیوریج کا پانی اگر زمین کی سطح پر پھیلا ہوا ہو توسورج کی روشنی سے خشک ہونے پر اس کے زہریلے اجزاء مٹی میں شامل ہوکر اسے بھی زہریلا بنادیتے ہیں جو کہ بالواسطہ طور پر انسانوں کو متاثر کرتا ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ ہمارے یہاں پہلے ہی جنگلات کا رقبہ کم ہے یعنی محض تین فی صد جبکہ اقوامِ متحدہ کے اصول کے مطابق یہ تناسب پچیس فی صد ہونا چاہئے، درخت ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں معاوِن و مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ بات اصل میں یہ ہے کہ ہمارے یہاں اِس حوالے سے آگہی نہیں ہے، عوام کی سطح پر تو اس کا شعور ہی نہیں ہے مگر ہماری حکومتیں بھی کبھی اس بارے میں سنجیدہ نہیں رہیں ورنہ آج ہمارے ملک میں ماحولیاتی آلودگی کی یہ صورتِ حال نہ ہوتی۔دیگر ممالک میں ماحولیات کو ایک اہم مضمون کی حیثیت حاصل ہے، وہاں اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک کی سطح پر یہ اہم مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا ہے جبکہ ہمارے یہاں اسے مضمون تو کیا ایک مسئلے کی حیثیت سے بھی اہمیت نہیں دی جاتی۔

Dr Iqbal Saeed Khan (9)

ڈاکٹر اقبال نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کی ایک خطرناک مثال یہ ہے کہ پاکستان کے بعض علاقوں میں کچھ عرصے سے اسموگ ہونے لگی ہے، یہ انگریزی کے دو الفاظ اسموک اور فوگ کا مرکب ہے۔ آپ اِسے” دُھواں آلوددُھند“ کہہ سکتے ہیں۔ پنجاب اور خصوصاً لاہورحالیہ ہفتوں میں اس سے شدید متاثر رہے۔یہ وہ دُھند ہے جس میں دُھواں اپنے مکمل زہریلے اثرات کے ساتھ شامل ہوتا ہے۔ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن سلفیٹ کا مرکّب ہے جو اِنسانی صحت کے لیے سخت خطرناک ہے۔ہمارے یہاں گاڑیاں بہت زیادہ دُھواں خارج کرتی ہیں، پھر کارخانوں کی چمنِیوں سے بہت سا دُھواں خارج ہوتا ہے اور کھلیانوں میں دھان جلانے سے بھی دُھواں فضا کو آلودہ کرتا ہے، اوپر سے صنعتوں اور جنریٹرز میں بھی زیادہ تر کوئلے کا استعمال ہوتا ہے جس سے کافی دُھواں خارج ہوتاہے، یہ تمام

Dr Iqbal Saeed Khan (11)

دھواں کُرّہ میں ہی موجود رہتا ہے، آلودگی کی کوئی بھی قسم ہو وہ صرف اپنی شکل تبدیل کرتی ہے ختم نہیں ہوتی، ہم نے اپنے اِرد گرد اتنا دُھواں اکٹھا کر لِیا ہے کہ گویا ہم سب ایک کاربن سیل میں مقیّد ہیں۔ یہ دُ ھواں ،ناک، کان، گلے، آنکھوں اور جلد کی بیشتر بیماریوں اور الرجی کا سبب ہے۔اس فضائی آلودگی نے موسموں کے نظام کو تباہ کردیا ہے اور اب گرمیاں پہلے کے مقابلے میں بہت طویل اور بہت شدید ہونے لگی ہیں جبکہ سردیاں نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں، اوپر سے بارشوں کا نظام بھی تباہ ہوکر رہ گیا ہے، بارش اسموگ کو صاف کردیتی ہے مگر فضائی آلودگی کے سبب بارش بھی نہیں ہورہی۔ ماحول کی آلودگی نے لوگوں کو جسمانی طور پر بیمار کیا ہے اور جسمانی بیمارِیوں نے لوگوں کو ذہنی طور پر مریض بنا ڈالا ہے۔ہماری فضا، ہماری زمین، ہمارا سمندر، سب کا سب آلودہ ہے۔ کراچی کی ساحلی پٹّی جو کہ گوادر تک جاتی ہے، یہ نو سو میل سمندری ساحل بے حد سمندری آلودگی کا شکار ہے، یہاں کی سمندری مخلوق بھی اس آلودگی سے متاثر ہے۔اس کا فوری سد باب نہ کیا گیا تو شدید انسانی بحران کا اندیشہ ہے۔

Dr Iqbal Saeed Khan (13)

Dr Iqbal Saeed Khan (14)

Dr Iqbal Saeed Khan (18)

Dr Iqbal Saeed Khan (2)

ڈاکٹر اقبال سعید خان کی ریسرچ کے اختتام پر حاضرین نے ان سے ماحولیات کے حوالے سے سوالات بھی کیے۔

About author

Admin

The author and admin of this site is Umar Khitab Khan. Have 20 years experience in media industry, he wrote many scripts for TV, write ups and features for magazines and news papers. A book based on biographies of celebrities also on his credit. His magazine Monthly Metro Live very popular in intellectuals but also in masses, He is affiliated with many social and professional organizations like Arts Council of Pakistan and Karachi Union of Journalists. He is also a film critic and member of SBFC (Sindh Board of Film Censors).

No comments

You may interested