fbpx

Chain Aye Na! To be or not to be…!

0
20117015_1403052063077844_3674150429887752865_o

By Hanif Sahar

سید نور نے طویل عرصے بعد فلم بنائی اوراس کا نام رکھا چین آئے نہ!یہ فلم ٹی وی کے اداکار شہروز سبز واری کی پہلی فلم ہے۔ شہروز کاٹی وی ڈراما ”دیوانہ“ جس نے بھی دیکھا ہے وہ میری اس بات سے شاید متفق ہوگا کہ اس ڈرامے میں شہروز کا کردار دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ فلم مٹیریل ہے اور حسن اتفاق سے جلد ہی میری یہ بات ثابت بھی ہوگئی۔ شہروز نے پہلی ہی فلم میں بڑی بھرپور کوشش کی ہے کہ وہ فلم کی دنیا میں اوروںسے زیادہ مضبوطی سے قدم دھریں۔ چین آئے نہ،ہر چند کہ اس وقت جب پاکستانی سینما کوئی اچھے عہد سے نہیں گزر رہا اور ہر آنے والی فلم سے اس سے کہیں زیادہ توقعات لگالی جاتی ہیں جو کہ نہیں لگانی چاہئیں یا پھر اتنی ہی لگانی چاہئیں جتنی کہ تقاضا اور مبنی بر انصاف کہلا سکتا ہو۔

IMG_0023 (3)

بد قسمتی سے سید نور کی فلم چین آئے نہ، سے بھی کہیں غیر معمولی توقعات وابستہ کرلی گئیں اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سید نور پاکستانی سنیما کو ماضی میں بہت سی کامیاب فلمیں دے چکے ہیں۔وہ ایک تجربہ شناس اور مایہ ناز ہدایت کار اور کہانی نویس کہلاتے ہیں۔ اسی لیے چین آئے نہ، سے ایسی غیر معمولی توقعات کا وابستہ ہوجانا فطری معلوم ہوتا ہے۔تاہم اسکے لیے ضروری تھا کہ سید نور فلم کی ریلیز سے پہلے یہ ضرور بتا دیتے کہ انھوں نے ایک ہلکی پھلکی رومانی فلم بنانے کی کوشش کی ہے اور دستیاب وسائل میں شاید اس سے بہتر فلم بنائی بھی نہیں جا سکتی تھی۔چنانچہ فلم سیلابی توقعات کی وجہ سے ایسی کامیابی حاصل کرنے میں ناکام ہوئی ہے جیسی کہ اس کا حق سمجھا گیا۔

IMG_0154
فلم کا سب سے بہتر شعبہ اس کا میوزک ہے۔سید نور نے یقینا ماضی کے تجربات کی روشنی میں ایک میوزیکل فلم بناکے ناظرین کے سامنے پیش کردی۔ اور ایسا ہوتا بھی رہا ہے کہ میوزیکل فلم کے اگر کچھ شعبے زیادہ معیاری نہ بھی ہوں تب بھی اسے کامیابی حاصل ہوجایا کرتی تھی لیکن دور حاضر میں ایسا نہیں ہوتا۔ اب میوزیکل فلم کے لیے ازبس ضروری ہے کہ بہت اچھے کوریو گراف کے ساتھ رقص بھی فلم کا حصہ بنائے جائیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے ٹی وی اداکار جو ان دنوں زیادہ تر فلموں کا حصہ بنائے جارہے ہیں وہ اس شعبے میں نوسکھیوں سے بھی زیادہ بری پرفارمنس دیتے ہیں۔ کہنا ہی پڑتا ہے کہ ٹی وی کے اداکاروں کا معاملہ یہ رہا ہے کہ ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا!!اس کمی کا شکار چین آئے نہ، بھی ہوئی ہے۔

_MG_0279

باقی کہانی چونکہ پرانی تھی اورسید نور کی لکھی ایک فلم بے قرار،سے کسی حد تک متاثر بھی تھی تو اس کا امکان کم ہی ہوتا ہے کہ ماضی کی کوئی کہانی حال کے اوربدلے ہوئے جدید عہد سے ہم آہنگ بھی ہو ۔ اور ایسا اس فلم کو دیکھ کر لگتا بھی ہے کہ یہ جدید تقاضوں کو کم حقہ پورا کرنے میں ناکام رہی ۔

IMG_0236 (2)

جیسا کہ میں نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں پاکستانی فلم کا جو احیا ممکن بنایا جارہا ہے، اس میں پاکستانی شائقین سے یہ توقع بھی کی جارہی ہے کہ وہ معیار کی کمی کو نظر انداز کرکے اپنے ملک کی فلموں کے فروغ میں اپنا قومی کردار ادا کریں، اسی لیے کئی ایسی فلموں کو بھی قدرے کامیابی ملی ہے جو سخت کسوٹی پر کس کے دیکھی جائیں تو انھیں بری طرح ناکام ہونا چاہیے تھا۔ یہ یقینا ایسے شائقین کے تعاون کی وجہ سے ہی ممکن ہورہا ہے جو پاکستانی سینما کی بحالی کے لیے دل سے کوشاں ہیں اور اسی لیے سینما میں جاکر فلمیں دیکھتے ہیں،اس امید پر کہ ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب پاکستانی فلمیں اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے حاصل کرنے میں کامیاب ہو رہیں گی۔

IMG_0001

شاید کچھ لوگوں کو یہ بات نہ معلوم ہو کہ ماضی میں پاکستان کی کتنی ہی فلمیں نہ صرف بے مثال تاریخی کامیابی سے ہمکنا ر ہوتی رہی ہیں بلکہ پڑوسی ملک بھارت میں بھی اپنا آپ منواکے آئی ہیں لیکن یہ وقت پاکستانی فلموں کے لیے کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے ۔اچھے پروڈیوسرز، معیاری اداکار، میوزیشنز اور دیگر کئی شعبوں میں کافی فقدان دکھائی دیتاہے۔کھل کے کہوں تو یہ وقت پاکستانی فلموں پر جیسے برا وقت ہے اور ایسا ان لمحوں میںہورہاہے جب پاکستانی فلم انڈسٹری پہلے ہی تقریباً ڈوبی ہوئی ہے۔ ایسے میں میڈیا اور تعاون کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ پاکستانی سینما کا ساتھ دیں ۔اسے کھڑ ا ہونے میں مدد نہیں دے سکتے تو کم سے کم اس کی ٹانگیںتو نہ گھسیٹیں۔بدقسمی سے ایسا ہی ہو اہے چین آئے نہ، کے ساتھ۔

ایک معتبر انگریزی اخبار سے وابستہ ایک خاتون جرنلسٹ نے اس فلم کو نہ صرف غیر معیاری کہا بلکہ پوری فلم پر ایسی تہمتیں لگائیں کہ میں اس تبصرے کو پڑھ کر شدید حیران ہوا اور مجھے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ فلم سے زیادہ غیر معیاری لوگ تو اس وقت تبصرے کرنے کی مسندوں پر بیٹھ کر انٹ شنٹ لکھ رہے ہیں۔ حالانکہ یہ کہیں زیادہ ذمہ دارانہ فریضہ ہے جس کی ادائیگی عطائی لوگوں کے ہاتھوں میں نہیں ہونا چاہیے۔سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل میڈیا کے عام ہونے سے ایسا لگتا ہے کہ جس کے جو جی آ رہا ہے وہ لکھ رہا ہے۔ مذکورہ بلاگ کی ہیڈنگ کو پڑھنے کے بعد کوئی معمولی اہلیت کا انسان بھی اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ تبصرہ کس قدر بدبودار جانبداری اور دشمنی پر دلالت کرتا ہے۔ ہیڈنگ ملاحظہ ہو۔
”جب تک میں نے سید نور کی فلم ” چین آئے نہ“ دیکھی نہ تھی اس وقت تک مجھے پاکستانی سینما سے نفرت نہیں ہوئی تھی،لیکن اب فلم دیکھنے کے بعد ایسا نہیں رہا!!“
اس قسم کی ہیڈنگ پڑھ کر کوئی بھی قاری یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ جس نے بھی یہ تحریر لکھی ہے اس کا لکھنے کے مکتب سے دُور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ نفرت کی بنیاد پر کوئی بھی تحریر یا تبصرہ کیسے لکھا جاسکتا ہے؟ایسے الفاظ تو سوشل میڈیا پر کمنٹ کرنے کا عادی کوئی ذی ہوش انسان بھی استعمال نہیں کرتا چہ جائیکہ ایک تبصرہ کرنے والا!!ایسے کھلے ڈلے غیر مہذب الفاظ کااستعمال تو اس وقت بھی ممکن نہیںہوتا جب اپنے ابا جی کا اخبار یا ویب سائٹ ہو !
برعکس اس کے ایک اتنا بااعتبار اور درخشاں ماضی رکھنے والا ادارہ ایسے الفاظ اور ایسے مضامین کو چھاپنے کا سزا وار ہو!مجھے یقین ہے اس ادارے کے کسی بھی فرد سے یہ سہواً ہوا ہے اور اُن کی دانست میں نہیں رہا ہوگا کہ کس قدر پھوہڑ پن سے لکھی ہوئی زبان اور لکھنے کے اصولوں، ضابطوں کو کچلتی ہوئی یہ تحریر اُن کے معیاری reliable ادارے سے چھاپی گئی ہے۔مجھے تو ایک ایسی حیرت کا سامنا ہے کہ کیا اس بے پناہ باوقار ادارے میں بھی اب ایسا ہورہا ہے کہ کوئی کچھ بھی لکھ سکتا ہے اور کوئی پوچھنے والا یا پرسان حال نہیںرہا؟تاریخ بتاتی ہے کہ جب کسی معاشرے ، ملک اور ریاست میں ایسی بو العجبیاں سرزد ہونے لگتی ہیں تو اس کا زوال قریب ہوتا ہے اسے ہی دورِ طوائف الملوکی ،کہا جاتا ہے۔ لیکن میں پھر کہوں گا کہ یہ اس ادارے سے دانستہ سرزد ہونے والی غلطی نہیں ہو سکتی کیونکہ میں خود بھی اس ادارے سے وابستہ رہا ہوں۔یہ لازمی لاعلمی اور زیادہ بھروسے کی وجہ سے ہوا ہوگا۔
دوسری بات، یہ فلم خواتین پر تشدد کے لیے قطعی نہیں اُبھارتی! اگر کوئی فیمینسٹ خاتون اس قسم کی عینک لگا کے فلم دیکھتی ہیں تو سمجھ لیں کہ پھر تو ہالی وڈ اور بولی وڈ کی آدھی سے زیادہ فلموں کو خواتین کے خلاف ہونے والے تشدد کے الزام کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے! ایک بات اور….ان بی بی کو چاہیے کہ ہالی وڈ کی ایسی فلمیں بھی ضرور دیکھیں جن میں خواتین کرداروں نے مردوں کو مار مار کے ان کا بھرکس نکال دیا ہوتا ہے۔ انجیلینا جولی تو مشہور ہی اپنی ایسی فلموں سے ہوئی ہیں۔ اس پر کیا کہیں گی ؟کیا ایسی فلوں کو مردوں کے خلاف ہونے والا خواتین کا تشدد کہہ کر اپنے ذہنی دیوالیہ پن کا مظاہرہ کیاجائے؟جب کوئی کام آتا نہ ہو تو اسے کرنے کی ضرورت کیا ہے!!آپ کچھ اور کرلیں ۔ضروری ہے کہ ایسا کام کیا جائے جس میں جگ ہنسائی کے علاوہ اور کچھ حاصل نہ ہوتا ہو! پھربھی تماشا بننا جسے پسند ہو وہ جاری رکھ سکتا ہے!!فلم کا سب سے اچھا سین ہی وہ ہے جس میں ایک ہیرو کی محبت کا بہت ہی انوکھا اظہار دیکھنے کو ملتا ہے، جسے ان بقراط بی بی نے خواتین کے خلاف تشدد قرار دیا ہے!!
ماضی کی ایک فلم تھی اناڑی، اسے ایس سلیمان نے ڈائریکٹ کیا تھا۔ اس کے ایک منظر میں شبنم، ندیم سے کسی بات پر ناراض ہو کر تھپڑ مارتی ہے جو کافی زور سے پڑ جاتا ہے اور ندیم کو جواب میں غصہ آنے لگتا ہے۔ یہ دیکھ کر شبنم اپنے تھپڑ کا تاثر زائل کرنے کے لیے کہتی ہے۔
”پیار میں مارا ہے!“ ندیم آناً فاناً ایک ادھر سے اور ایک اُدھر سے دو تھپڑ شبنم کے لگاتا ہے اور کہتا ہے۔
” میں بھی تجھ سے دُگنا پیار کرتا ہوں!“
یہ فلم کا اتنا ہٹ اور دلچسپ سین تھا کہ اس نے فلم کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ اب اس وقت یہ بی بی ہوتیں تو خواتین کے خلاف تشدد کا بودا نعرہ لگاکے فلم کو تہمت زدہ بنانے میں کسر اُٹھانہ رکھتیںلیکن اس وقت شاید ان کی ایسی تحریر کو چھاپنے کی بجائے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جاتا کیونکہ اس عہد میں لکھنے کے لیے صاحب شعور ہونا لازمی ہوا کرتا تھا۔
ان سب باتوں کے باوجود میں کہتا ہوں چین آئے نہ، کو اور زیادہ معیاری بنایا جاسکتا تھا ۔ مجھے ذاتی طور پر فلم پسند نہیں آئی مگر میں نے بیس سال تک ریویو لکھے، کبھی مجھ پر کسی نے یہ الزام تک نہیں لگایا کہ میں نفرت کو بنیاد بنا کر ذاتی پسند اور ناپسند پر تبصرہ لکھتا ہوں۔
چین آئے نہ، بھلے ہی معیاری فلم نہ ہو لیکن ٹی وی انڈسٹری سے آنے والے بے شمار ڈائریکٹرزکتنے عرصے سے اس سے بھی زیادہ غیر معیاری فلموں کے ڈھیر لگا رہے ہیں۔ اُنہیں اگر نرمی سے دیکھا جاسکتا ہے تو چین آئے نہ کو کیوں رعایت نہیں دی گئی،بلکہ اس فلم سے تو باقاعدہ ذیادتی کی گئی۔صرف اس لیے کہ سید نور سے کچھ لوگوں کو ذاتی عناد ہے!!

Metro Live (16)

Metro Live (17)

About author

metrolive

The author and admin of this site is Umar Khitab Khan. Have 20 years experience in media industry, he wrote many scripts for TV, write ups and features for magazines and news papers. A book based on biographies of celebrities also on his credit. His magazine Monthly Metro Live very popular in intellectuals but also in masses, He is affiliated with many social and professional organizations like Arts Council of Pakistan and Karachi Union of Journalists. He is also a film critic and member of SBFC (Sindh Board of Film Censors).

No comments

You may interested

photography | films | photobooth

Grand opening of Golden Chick!

Golden Chick, the American fast-food chain, opened their second flagship store at Sea view Karachi. The evening started with guests mingling at the Red Carpet ...